کرچیاں
مجھے ساتھ چلنے کا کہتے رہو
چل پڑوں گا
مگر اک حقیقت دھیاں میں رہے
ہمسفر، زادِ رہ کی ضرورت تو ہو گی
مگر میری مٹھی میں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں ہیں
تِرے پاس تو
سبز موسم ہیں اور چاندنی رات بھی
تیرے آنچل پہ کچھ دودھیا تارے ہیں
ہمسفر، آشنا بن کے آئے ہو تو جان لو
دشت در دشت چلنے کا جو حوصلہ تھا
وہ شوقِ مسافت کہ جو
راستوں کی طوالت پہ حاوی رہا
اب نہیں ہے
مگر میں تو ہوں
سو کہو، کیا ارداہ ہے
چلنے کو تیار ہو؟
تو سنو، ایسا کرتے ہیں
یہ میرے خوابوں کی کچھ کرچیاں
میری مٹھی سے لے لو
انہیں بھی کہِیں اپنے آنچل پہ ٹانکو
کہ میرا بھروسہ نہیں ہے
میں کتنے قدم چل سکوں گا
فرخ عدیل
No comments:
Post a Comment