Tuesday, 11 January 2022

وجودیت اک المیہ

 وجودیت اک المیہ ہے نا؟

میں اپنی ایگزسٹینس سے نالاں و بیزار ہوا جاتا ہوں

وجودیت کا حاصل کیا؟

سارا کھیل ہی وجودیت کا ہے

جسم نہ ہوتا تو روح گناہ پہ مائل کیسے ہوتی؟

پھر انسان ہونے کا مطلب؟

انسان ہونے کا حاصل؟

آگہی

روح جتنی لطیف ہوتی جائے گی

وجودیت کا احساس فنا ہوتا جائے گا

کثیف شے ڈوب جاتی ہے جبکہ لطیف تیرتی ہے

شاید یہی جنت اور جہنم کا بیسک کانسپٹ ہے

میں اپنے ناتواں جسم کے بوسیدہ اعضاء سمیٹ کر

نیم تاریک پگڈنڈی پر رینگ رہا ہوں

میں خود سے فرار چاہتا ہوں

اپنی چی کو استعمال کرو

تمہارا جسم ساکت ہے لیکن چی حرکت کر رہی ہے

فوکس کرو

اپنا اندر خالی کرو

میڈیٹیشن کے بغیر تم درندے ہو

میں ہوا میں تحلیل ہوا جاتا ہوں

رفتہ رفتہ میں اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگا

کئی نوری سالوں کی مسافت سے

سمندروں اور جنگلوں سے ہوتا ہوا

اک بے آباد جزیرے پہ آ پہنچا

یہ آگہی کا پہلا درجہ ہے

تمہیں اپنی کثافتوں کو جلانا ہو گا

میں ٹائم سپیس سے باہر آ چکا ہوں

قوت ثقل فنا ہو چکی ہے

بلیک ہول سے آگے کئی ہزار صدیوں کا سفر ہے

اک نئے بلیک ہول تک، جو دوسری دنیا میں کھلتا ہے

اچانک درمیانی پردہ ہٹا دیا جاتا ہے

دور نیم تاریک پگڈنڈی پہ ایک جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا


عبداللہ سفیر


1 existence

2 basic-concept

3 chi

4 focus

5 meditation

6time-space

7 black-hole

No comments:

Post a Comment