م سے موت
اپنے جوتوں سے پاؤں اتارو
اور محسوس کرو
لاپتہ ہونے کا دکھ
بغیر کھڑکی کے مکاں بناؤ
اور سوچو
کیا تمہیں قبر سے محبت ہوئی؟
شہر کے کانوں میں جا کر زور سے
اپنا نام پکارو
کوئی نہ آئے تو سمجھو
دو گز زمین کا انعام نکل آیا ہے
جشن مناؤ
گاؤں کی مسجدوں میں بھوکے بچے
من و سلویٰ کے سبق پر
اٹکے ہوئے تھے
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment