Tuesday, 11 January 2022

کبھی دیوار مت بننا محبت پھیلنے دینا

 محبت ہونے دینا

روک مت دینا

محبت ٹوک دی جائے

تو پھر خاموشیوں کا اک سفر آغاز ہوتا ہے

دوبارہ بولنے میں بات کا چہرہ کبھی ویسا نہیں رہتا

کہاں پر کون سا جملہ کہا تھا، کیا بتایا تھا؟

دوبارہ یاد کرنے کے عمل میں اتنی وحشت ہے

کہ بندہ مر بھی سکتا ہے

سبھی مجھ سے نہیں ہوتے)

(بہت سے مر بھی جاتے ہیں

مجھے مرنے سے یاد آیا

محبت پر کبھی بھی شک نہیں کرنا

تمہیں جس سے محبت ہو 

اسے پابندیوں میں قید مت کرنا

اسے یہ بھی نہیں کہنا

"مجھے تم سے محبت ہے

تمہیں مجھ سے محبت کیوں نہیں ہے؟"

یوں نہیں کرنا

محبت سے کبھی کچھ پوچھنا چاہو

بھروسہ کر کے کچھ بھی پوچھ لینا سب بتائے گی

محبت کا تو سارا مسئلہ یہ ہے اسے چھپنا نہیں آتا

بہت معصوم ہوتی ہے

کبھی یہ روٹھ بھی جائے تو پھر بھی دل میں کہتی ہے؛

"سنو! مجھ کو منا لو نا"

منا لینا

محبت ماننے میں دیر کرنے کا ڈرامہ 

جس قدر بھی کر سکے، کر لے

مگر یہ مان جاتی ہے

اور اس کے بعد یہ سو جان سے قربان جاتی ہے

محبت سے کبھی بیزار مت ہونا

یہی کہنا

محبت پھیلتی جائے

زمینوں اور زمانوں میں

سبھی معلوم و نا دیدہ جہانوں میں

دشاؤں میں، فضاؤں میں

محبت پھیلتی جائے

کبھی دیوار مت بننا

محبت پھیلنے دینا


علی زریون

No comments:

Post a Comment