Showing posts with label اعظم خان. Show all posts
Showing posts with label اعظم خان. Show all posts

Sunday, 19 February 2023

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں

 امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں

پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں

بے وجہ گل رخوں سے مِری بے رخی کہاں

میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں

تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح

شیشہ گری نہیں، کہیں جلوہ گری نہیں

Saturday, 18 February 2023

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

 خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

حرم میں سرنگوں کچھ قابل فی النار بیٹھے ہیں

گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں

نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں

محبت کی نظر میں جیت لی ہے ہم نے وہ بازی

زمانے کی نظر میں ہم کہ جس کو ہار بیٹھے ہیں

Friday, 17 February 2023

بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

 بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

کہ جس کی قیمت کردار طے ہے

ہوا تھا حادثہ کچھ اور، لیکن

لکھے گا اور کچھ اخبار طے ہے

بڑے آنگن پہ اتراؤ نہ اتنا

اٹھے گی اس میں بھی دیوار طے ہے

Wednesday, 12 October 2022

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں

ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں

نادان ہیں مثبت میں نفی ڈھونڈ رہے ہیں

گل ڈھونڈ رہے ہیں نہ کلی ڈھونڈ رہے ہیں

گلشن میں بس اک شاخ ہری ڈھونڈ رہے ہیں

اس یگ میں کہاں ہم بھی ولی ڈھونڈ رہے ہیں

انساں میں صفات بشری ڈھونڈ رہے ہیں

Saturday, 16 July 2022

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش

دن وہ پر کیف تھے جب ہم تھے سراسر مدہوش

مصلحت جوش بغاوت کو دبا دیتی ہے

دل دھڑکتا ہے مگر دل کی صدائیں خاموش

اب کوئی صورت گفتار نظر آتی نہیں

وہ بھی خاموش مِرا رد عمل بھی خاموش

Wednesday, 6 October 2021

مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں

مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں

کہ سچ کو منہ پہ ہی کہنا کوئی مذاق نہیں

سنا ہے آنسو تو گھڑیال کے بھی بہتے ہیں

لہو کا آنکھ سے بہنا کوئی مذاق نہیں

ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگو

تمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں