امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں
پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں
بے وجہ گل رخوں سے مِری بے رخی کہاں
میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں
تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح
شیشہ گری نہیں، کہیں جلوہ گری نہیں
امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں
پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں
بے وجہ گل رخوں سے مِری بے رخی کہاں
میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں
تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح
شیشہ گری نہیں، کہیں جلوہ گری نہیں
خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں
حرم میں سرنگوں کچھ قابل فی النار بیٹھے ہیں
گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں
نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں
محبت کی نظر میں جیت لی ہے ہم نے وہ بازی
زمانے کی نظر میں ہم کہ جس کو ہار بیٹھے ہیں
بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے
کہ جس کی قیمت کردار طے ہے
ہوا تھا حادثہ کچھ اور، لیکن
لکھے گا اور کچھ اخبار طے ہے
بڑے آنگن پہ اتراؤ نہ اتنا
اٹھے گی اس میں بھی دیوار طے ہے
ہر شخص میں کچھ لوگ کمی ڈھونڈ رہے ہیں
نادان ہیں مثبت میں نفی ڈھونڈ رہے ہیں
گل ڈھونڈ رہے ہیں نہ کلی ڈھونڈ رہے ہیں
گلشن میں بس اک شاخ ہری ڈھونڈ رہے ہیں
اس یگ میں کہاں ہم بھی ولی ڈھونڈ رہے ہیں
انساں میں صفات بشری ڈھونڈ رہے ہیں
شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش
دن وہ پر کیف تھے جب ہم تھے سراسر مدہوش
مصلحت جوش بغاوت کو دبا دیتی ہے
دل دھڑکتا ہے مگر دل کی صدائیں خاموش
اب کوئی صورت گفتار نظر آتی نہیں
وہ بھی خاموش مِرا رد عمل بھی خاموش
مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں
کہ سچ کو منہ پہ ہی کہنا کوئی مذاق نہیں
سنا ہے آنسو تو گھڑیال کے بھی بہتے ہیں
لہو کا آنکھ سے بہنا کوئی مذاق نہیں
ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگو
تمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں