مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں
کہ سچ کو منہ پہ ہی کہنا کوئی مذاق نہیں
سنا ہے آنسو تو گھڑیال کے بھی بہتے ہیں
لہو کا آنکھ سے بہنا کوئی مذاق نہیں
ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگو
تمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں
مذاق جس میں کہ حسن مذاق ہی نہ ملے
مذاق ایسا بھی سہنا کوئی مذاق نہیں
سخنوروں کو مذاق سخن کا پاس رہے
غزل سخن کا ہے گہنا کوئی مذاق نہیں
چمن کا ہو کے بھی اہل چمن سے اے اعظم
ہمیشہ طعنے ہی سہنا کوئی مذاق نہیں
ڈاکٹر اعظم خان
No comments:
Post a Comment