Showing posts with label نثار تاثیر. Show all posts
Showing posts with label نثار تاثیر. Show all posts

Thursday, 2 November 2023

باندھ رکھا ہے کسی ساعت کن نے مجھ کو

 باندھ رکھا ہے کسی ساعتِ کُن نے مجھ کو

جسم کے تار سے اب سانس ہیں دُھننے مجھ کو

زندگی تیری سلائی پہ چڑھی اون ہوں میں 

آ کسی روز نئے ڈھنگ سے بُننے مجھ کو

روز بکھرا ہوا ملتا ہوں میں اک کمرے میں 

پھر کہیں سے کوئی یاد آتی ہے چُننے مجھ کو 

Friday, 14 April 2023

جھٹ سے کہہ دینا چلے جاؤ نہیں بنتا تھا

 جھٹ سے کہہ دینا چلے جاؤ نہیں بنتا تھا 

اس قدر تلخ تو برتاؤ نہیں بنتا تھا 

کتنے دلکش تھے محبت کی شروعات کے دن 

وہ روانی تھی کہ ٹھہراؤ نہیں بنتا تھا

وہ سراپا بھی معاون تھا بہکنے میں میرے

ورنہ اس آگ کا پھیلاؤ نہیں بنتا تھا 

Sunday, 19 June 2022

آنکھ میں عکس پرونا تو نہیں کافی ناں

 آنکھ میں عکس پرونا تو نہیں کافی ناں

محض بینائی کا ہونا تو نہیں کافی ناں

تجھ کو حاصل نہیں کرنا ہے تجھے پانا ہے

روتے بچے کو کھلونا تو نہیں کافی ناں

اور اب کتنا سمٹ کر رہوں پہلو میں تِرے

گھر میں رہتے ہوئے کونا تو نہیں کافی ناں

Saturday, 23 April 2022

یکایک مجھے یوں ترا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے

 یکایک مجھے یوں تِرا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے

کہ جیسے پجاری کو بھگوان اپنی طرف کھینچتا ہے

میں جتنی بھی تدبیریں کرلوں مِرے ہاتھ رہتے ہیں خالی

مجھے میرے حصے کا نقصان اپنی طرف کھینچتا ہے

تو کیا طے شدہ ہے دوبارہ کسی سے مجھے پیار ہو گا

سنا  ہے کہ مجرم کو زندان اپنی طرف کھینچتا ہے

Monday, 27 December 2021

ہم چراغوں کو مدینے کی ہوا چاہیے ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عالمِ حبس ہے، ظلمت میں ضیا چاہیۓ ہے

ہم چراغوں کو مدینے کی ہوا چاہیۓ ہے

سایۂ گنبدِ خضریٰ ہو، دمِ آخر ہو

اس سے بڑھ کر کسی بیمار کو کیا چاہیۓ ہے

پہلے طیبہ کی طرف جاؤں گا پھر کعبہ کو

جانتا ہوں کہ کسے کس کی رضا چاہیۓ ہے

Monday, 20 December 2021

ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی

 ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی

ہر ایک شخص کی ہوتی ہے کائنات اپنی

کسی کے منہ کا چبایا ہوا نہیں کھاتا

میں اپنے رنگ میں کرتا ہوں پیش بات اپنی

یہ منحصر ہے اب اس پر کہ رد کرے یا قبول

لکھی تو ہیں اسے خط میں گزارشات اپنی

Friday, 9 July 2021

کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے

 کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے

ویسے وہ گاؤں نہیں پڑتا تھا نزدیک مجھے

کان دھرتے ہی نہ تھے لوگ صدا پر میری

دستکیں دیں تو کہیں جا کے ملی بھیک مجھے

یہ بھرم بھی کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے

بعد میں کہہ بھی دیا تُو نے اگر ٹھیک مجھے

Monday, 28 June 2021

دور افق سے ساون رت کا پہلا پہلا بھیگا بادل

 موازنہ


دور افق سے ساون رُت کا پہلا پہلا بھیگا بادل

اپنی جانب آتا دیکھ کے دل ہی دل میں سوچ رہا ہوں

پگلے بادل

تُو کیا جانے میرے اندر کتنے ساون بیت چکے ہیں


نثار محمود تاثیر

Tuesday, 8 June 2021

کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ

 کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ

جلنے لگے چراغ ہواؤں کے ساتھ ساتھ

نکلے بہار اوڑھ کے کچھ خوش نما بدن

خوشبو بھی ہمسفر ہے قباؤں کے ساتھ ساتھ

چہرہ کشا ہوا ہے کوئی گیسوؤں کے بیچ

لگنے لگی ہے دھوپ بھی چھاؤں کے ساتھ ساتھ

Sunday, 6 June 2021

قریب تھا کہ حرارت سے جل اٹھا ہوتا

 قریب تھا کہ حرارت سے جل اٹھا ہوتا

دِیا ہتھیلی پہ کچھ وقت اگر رُکا ہوتا

بنایا جاتا اگر ٹہنیوں سے پنجرے کو

قفس میں کچھ تو پرندوں کو آسرا ہوتا

تمہارے جُوڑے میں ہے اس لیے سلامت ہے

یہ پھول شاخ پہ پژمُردہ ہو گیا ہوتا

روایتی سا کہانی میں سین آنا ہے

 روایتی سا کہانی میں سین آنا ہے

ٹرین رُکنی نہیں، ہاتھ چھُوٹ جانا ہے

ہمارے دستِ گزارش پہ خاک ہی دھر دے

کہ ہم نے لوٹ کے لوگوں کو منہ دِکھانا ہے

اُٹھا تو لی ہے محبت کی استھائی کی لَے

سو جیسے تیسے ہمیں انترا نبھانا ہے

Sunday, 2 May 2021

ہم ایسے گوشہ نشینوں کو یہ روا ہی نہیں

 ہم ایسے گوشہ نشینوں کو یہ روا ہی نہیں

وگرنہ، خاک اڑانا تو مسئلہ ہی نہیں

محبتوں کا تسلسل خراج مانگتا ہے

یہ پیڑ چھانٹے بنا قد نکالتا ہی نہیں

ہمیں بھی ان دنوں ویرانیوں کا سامنا ہے

یہ دکھ ہمارا بھی ہے صرف دشت کا ہی نہیں

Friday, 27 November 2020

گھر بلاتا ہے کبھی شوق سفر کھینچتا ہے

 گھر بلاتا ہے کبھی شوقِ سفر کھینچتا ہے

دوڑ پڑتا ہوں مجھے جو بھی جدھر کھینچتا ہے

اس طرح کھینچتی ہیں مجھ کو کسی کی آنکھیں

جیسے طوفان میں کشتی کو بھنور کھینچتا ہے

کیسے ممکن ہے بھلا چاند نہ دیکھے کوئی

حسن کامل ہو تو پھر خود ہی نظر کھینچتا ہے

Wednesday, 25 November 2020

وحشت غم میں اچانک ترے آنے کا خیال

 وحشت غم میں اچانک ترے آنے کا خیال

جیسے نادار کو گم گشتہ خزانے کا خیال

اس محبت میں ہدف کوئی بھی بن سکتا ہے

اس میں رکھا نہیں جاتا ہے نشانے کاخیال

وہ کبوتر تو اسی دن سے مرے جال میں ہے

جب اسے پہلے پہل آیا تھا دانے کا خیال

Wednesday, 7 October 2020

ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا

 ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا

روئے صحرا وہ سمندر نہیں آنے والا

اے مری چشم تجسس تو خلائیں نہ ٹٹول

تیری بینائی میں منظر نہیں آنے والا

آنکھ نے سیکھ لیا غم سے تعاون کرنا

پانی اب سطح سے اوپر نہیں آنے والا

حسرتیں دیدہ پر آب میں دم توڑ گئیں

 حسرتیں دیدہ پُر آب میں دم توڑ گئیں

پالتو مچھلیاں تالاب میں دم توڑ گئیں

میں نے اک خواب کو پانے کی جسارت کی تھی

اور مِری آنکھیں اسی خواب میں دم توڑ گئیں

منکشف ہو نہ سکا بھید کسی پر تیرا

کتنی پیشانیاں محراب میں دم توڑ گئیں

Tuesday, 6 October 2020

دل سے مشروط ہے زیبائی سے مشروط نہیں

دل سے مشروط ہے زیبائی سے مشروط نہیں

یہ محبت تِری رعنائی سے مشروط نہیں

یوں اچانک تِرے ملنے سے کھلا ہے مجھ پر

ہر سفر بادیہ پیمائی سے مشروط نہیں

تُو جو چھُو لے تو دسمبر میں پسینہ آ جائے

یہ تپش جون یا جولائی سے مشروط نہیں

ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے

 ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے

آنکھ لڑنا ہی تو گھاؤ کا سبب بنتا ہے

کیا تجھے علم ہے اے حسن بلاخیز کہ تُو

کتنے ہونٹوں کے کٹاؤ کا سبب بنتا ہے

وہ مِرے بعد کسی اور کا ہو جائے تو کیا

تھک کے گرنا بھی پڑاؤ کا سبب بنتا ہے

Saturday, 4 July 2020

آنکھ میں عکس پرونا تو نہیں کافی ناں

آنکھ میں عکس "پرونا" تو نہیں کافی ناں
محض بینائی کا "ہونا" تو نہیں کافی ناں
اور اب کتنا سمٹ کر رہوں پہلو میں ترے
گھر میں رہتے ہوئے کونا تو نہیں کافی ناں
دکھ کے عالم میں تبسم بھی سجا ہونٹوں پر
دیکھ، دامن کو "بھگونا" تو نہیں کافی ناں

سائے کی سمت نہ ہی جل کی طرف جاتا ہے

سائے کی سمت نہ ہی جل کی طرف جاتا ہے
مجھ میں اک رستہ کسی تھل کی طرف جاتا ہے
کس کو فرصت کہ در و بام کھنگالے میرے
کون "دہلیزِ مقفل" کی طرف جاتا ہے؟
یہ "محبت" ہے، بتا کر نہیں ہوتی ہے حضور
ورنہ قصداً کوئی دلدل کی طرف جاتا ہے؟