باندھ رکھا ہے کسی ساعتِ کُن نے مجھ کو
جسم کے تار سے اب سانس ہیں دُھننے مجھ کو
زندگی تیری سلائی پہ چڑھی اون ہوں میں
آ کسی روز نئے ڈھنگ سے بُننے مجھ کو
روز بکھرا ہوا ملتا ہوں میں اک کمرے میں
پھر کہیں سے کوئی یاد آتی ہے چُننے مجھ کو
باندھ رکھا ہے کسی ساعتِ کُن نے مجھ کو
جسم کے تار سے اب سانس ہیں دُھننے مجھ کو
زندگی تیری سلائی پہ چڑھی اون ہوں میں
آ کسی روز نئے ڈھنگ سے بُننے مجھ کو
روز بکھرا ہوا ملتا ہوں میں اک کمرے میں
پھر کہیں سے کوئی یاد آتی ہے چُننے مجھ کو
جھٹ سے کہہ دینا چلے جاؤ نہیں بنتا تھا
اس قدر تلخ تو برتاؤ نہیں بنتا تھا
کتنے دلکش تھے محبت کی شروعات کے دن
وہ روانی تھی کہ ٹھہراؤ نہیں بنتا تھا
وہ سراپا بھی معاون تھا بہکنے میں میرے
ورنہ اس آگ کا پھیلاؤ نہیں بنتا تھا
آنکھ میں عکس پرونا تو نہیں کافی ناں
محض بینائی کا ہونا تو نہیں کافی ناں
تجھ کو حاصل نہیں کرنا ہے تجھے پانا ہے
روتے بچے کو کھلونا تو نہیں کافی ناں
اور اب کتنا سمٹ کر رہوں پہلو میں تِرے
گھر میں رہتے ہوئے کونا تو نہیں کافی ناں
یکایک مجھے یوں تِرا دھیان اپنی طرف کھینچتا ہے
کہ جیسے پجاری کو بھگوان اپنی طرف کھینچتا ہے
میں جتنی بھی تدبیریں کرلوں مِرے ہاتھ رہتے ہیں خالی
مجھے میرے حصے کا نقصان اپنی طرف کھینچتا ہے
تو کیا طے شدہ ہے دوبارہ کسی سے مجھے پیار ہو گا
سنا ہے کہ مجرم کو زندان اپنی طرف کھینچتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عالمِ حبس ہے، ظلمت میں ضیا چاہیۓ ہے
ہم چراغوں کو مدینے کی ہوا چاہیۓ ہے
سایۂ گنبدِ خضریٰ ہو، دمِ آخر ہو
اس سے بڑھ کر کسی بیمار کو کیا چاہیۓ ہے
پہلے طیبہ کی طرف جاؤں گا پھر کعبہ کو
جانتا ہوں کہ کسے کس کی رضا چاہیۓ ہے
ہمارے دن پہ اتارے نہ کوئی رات اپنی
ہر ایک شخص کی ہوتی ہے کائنات اپنی
کسی کے منہ کا چبایا ہوا نہیں کھاتا
میں اپنے رنگ میں کرتا ہوں پیش بات اپنی
یہ منحصر ہے اب اس پر کہ رد کرے یا قبول
لکھی تو ہیں اسے خط میں گزارشات اپنی
کھینچ لاتی تھی کسی چاہ کی تحریک مجھے
ویسے وہ گاؤں نہیں پڑتا تھا نزدیک مجھے
کان دھرتے ہی نہ تھے لوگ صدا پر میری
دستکیں دیں تو کہیں جا کے ملی بھیک مجھے
یہ بھرم بھی کسی شیشے کی طرح ہوتا ہے
بعد میں کہہ بھی دیا تُو نے اگر ٹھیک مجھے
موازنہ
دور افق سے ساون رُت کا پہلا پہلا بھیگا بادل
اپنی جانب آتا دیکھ کے دل ہی دل میں سوچ رہا ہوں
پگلے بادل
تُو کیا جانے میرے اندر کتنے ساون بیت چکے ہیں
نثار محمود تاثیر
کوشش ذرا سی کی جو دعاؤں کے ساتھ ساتھ
جلنے لگے چراغ ہواؤں کے ساتھ ساتھ
نکلے بہار اوڑھ کے کچھ خوش نما بدن
خوشبو بھی ہمسفر ہے قباؤں کے ساتھ ساتھ
چہرہ کشا ہوا ہے کوئی گیسوؤں کے بیچ
لگنے لگی ہے دھوپ بھی چھاؤں کے ساتھ ساتھ
قریب تھا کہ حرارت سے جل اٹھا ہوتا
دِیا ہتھیلی پہ کچھ وقت اگر رُکا ہوتا
بنایا جاتا اگر ٹہنیوں سے پنجرے کو
قفس میں کچھ تو پرندوں کو آسرا ہوتا
تمہارے جُوڑے میں ہے اس لیے سلامت ہے
یہ پھول شاخ پہ پژمُردہ ہو گیا ہوتا
روایتی سا کہانی میں سین آنا ہے
ٹرین رُکنی نہیں، ہاتھ چھُوٹ جانا ہے
ہمارے دستِ گزارش پہ خاک ہی دھر دے
کہ ہم نے لوٹ کے لوگوں کو منہ دِکھانا ہے
اُٹھا تو لی ہے محبت کی استھائی کی لَے
سو جیسے تیسے ہمیں انترا نبھانا ہے
ہم ایسے گوشہ نشینوں کو یہ روا ہی نہیں
وگرنہ، خاک اڑانا تو مسئلہ ہی نہیں
محبتوں کا تسلسل خراج مانگتا ہے
یہ پیڑ چھانٹے بنا قد نکالتا ہی نہیں
ہمیں بھی ان دنوں ویرانیوں کا سامنا ہے
یہ دکھ ہمارا بھی ہے صرف دشت کا ہی نہیں
گھر بلاتا ہے کبھی شوقِ سفر کھینچتا ہے
دوڑ پڑتا ہوں مجھے جو بھی جدھر کھینچتا ہے
اس طرح کھینچتی ہیں مجھ کو کسی کی آنکھیں
جیسے طوفان میں کشتی کو بھنور کھینچتا ہے
کیسے ممکن ہے بھلا چاند نہ دیکھے کوئی
حسن کامل ہو تو پھر خود ہی نظر کھینچتا ہے
وحشت غم میں اچانک ترے آنے کا خیال
جیسے نادار کو گم گشتہ خزانے کا خیال
اس محبت میں ہدف کوئی بھی بن سکتا ہے
اس میں رکھا نہیں جاتا ہے نشانے کاخیال
وہ کبوتر تو اسی دن سے مرے جال میں ہے
جب اسے پہلے پہل آیا تھا دانے کا خیال
ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا
روئے صحرا وہ سمندر نہیں آنے والا
اے مری چشم تجسس تو خلائیں نہ ٹٹول
تیری بینائی میں منظر نہیں آنے والا
آنکھ نے سیکھ لیا غم سے تعاون کرنا
پانی اب سطح سے اوپر نہیں آنے والا
حسرتیں دیدہ پُر آب میں دم توڑ گئیں
پالتو مچھلیاں تالاب میں دم توڑ گئیں
میں نے اک خواب کو پانے کی جسارت کی تھی
اور مِری آنکھیں اسی خواب میں دم توڑ گئیں
منکشف ہو نہ سکا بھید کسی پر تیرا
کتنی پیشانیاں محراب میں دم توڑ گئیں
دل سے مشروط ہے زیبائی سے مشروط نہیں
یہ محبت تِری رعنائی سے مشروط نہیں
یوں اچانک تِرے ملنے سے کھلا ہے مجھ پر
ہر سفر بادیہ پیمائی سے مشروط نہیں
تُو جو چھُو لے تو دسمبر میں پسینہ آ جائے
یہ تپش جون یا جولائی سے مشروط نہیں
ہجر کے پہلے الاؤ کا سبب بنتا ہے
آنکھ لڑنا ہی تو گھاؤ کا سبب بنتا ہے
کیا تجھے علم ہے اے حسن بلاخیز کہ تُو
کتنے ہونٹوں کے کٹاؤ کا سبب بنتا ہے
وہ مِرے بعد کسی اور کا ہو جائے تو کیا
تھک کے گرنا بھی پڑاؤ کا سبب بنتا ہے