ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا
روئے صحرا وہ سمندر نہیں آنے والا
اے مری چشم تجسس تو خلائیں نہ ٹٹول
تیری بینائی میں منظر نہیں آنے والا
آنکھ نے سیکھ لیا غم سے تعاون کرنا
پانی اب سطح سے اوپر نہیں آنے والا
زیست ترتیب تہجی کی وہ تختی ہے جہاں
کوئی بھی لمحہ مکرر نہیں آنے والا
دل ترے نام پہ دھڑکا تھا تو میں بھانپ گیا
اب مرے ہاتھ یہ تیتر نہیں آنے والا
ہم پہ واجب ہے کریں امن کی تبلیغ کہ اب
خاک پہ کوئی پیمبر نہیں آنے والا
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment