Wednesday, 7 October 2020

ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا

 ایسے بچھڑا ہے پلٹ کر نہیں آنے والا

روئے صحرا وہ سمندر نہیں آنے والا

اے مری چشم تجسس تو خلائیں نہ ٹٹول

تیری بینائی میں منظر نہیں آنے والا

آنکھ نے سیکھ لیا غم سے تعاون کرنا

پانی اب سطح سے اوپر نہیں آنے والا

زیست ترتیب تہجی کی وہ تختی ہے جہاں

کوئی بھی لمحہ مکرر نہیں آنے والا

دل ترے نام پہ دھڑکا تھا تو میں بھانپ گیا

اب مرے ہاتھ یہ تیتر نہیں آنے والا

ہم پہ واجب ہے کریں امن کی تبلیغ کہ اب

خاک پہ کوئی پیمبر نہیں آنے والا


نثار محمود تاثیر

No comments:

Post a Comment