حسرتیں دیدہ پُر آب میں دم توڑ گئیں
پالتو مچھلیاں تالاب میں دم توڑ گئیں
میں نے اک خواب کو پانے کی جسارت کی تھی
اور مِری آنکھیں اسی خواب میں دم توڑ گئیں
منکشف ہو نہ سکا بھید کسی پر تیرا
کتنی پیشانیاں محراب میں دم توڑ گئیں
ہجر نے کاٹ دئیے پر مِری تدبیروں کے
وصل کی ساعتیں اسباب میں دم توڑ گئیں
نثار محمود تاثیر
No comments:
Post a Comment