Wednesday, 7 October 2020

کیسی دنیا بسائے پھرتا ہے

 کیسی دنیا بسائے پھِرتا ہے

چھوڑ اپنے پرائے پھرتا ہے

جیسے سب کچھ ابھی سلامت ہو

ایسے سب کو جگائے پھرتا ہے

وقت لُوٹا ہو جیسے ڈاکے میں

جب بھی دیکھو گنوائے پھرتا ہے

جیسے دنیا میں کچھ بچا ہی نہیں

ایسے سگریٹ جلائے پھرتا ہے

مر نہ جائے تھکن سے تُو عابی

سر پہ ماضی اٹھائے پھرتا ہے


عابی مکھنوی

No comments:

Post a Comment