راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے
یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے
وہ بھی کیا دور تھے ساقی! تِرے مستانوں کے
راستے راہ تکا کرتے تھے مے خانوں کے
بادلوں پر یہ اشارے تِرے دیوانوں کے
ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اُڑ کے گریبانوں کے
راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے
یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے
وہ بھی کیا دور تھے ساقی! تِرے مستانوں کے
راستے راہ تکا کرتے تھے مے خانوں کے
بادلوں پر یہ اشارے تِرے دیوانوں کے
ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اُڑ کے گریبانوں کے
کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں
جفاؤں کے گلے تم سے خدا جانے بہت سے ہیں
مگر محشر کا دن ہے اپنے بیگانے بہت سے ہیں
بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
تِری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں
صبر آ گیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں
سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں
بلبل ہے گلستاں میں، پروانہ انجمن میں
سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں
صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی
جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سکون پایا ہے بے کسی نے حدودِ غم سے نکل گیا ہوں
خیالِ حضرتؐ جب آ گیا ہے تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں
کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں، کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں
تلاشِ جاناں میں کتنی منزل خدا ہی جانے نکل گیا ہوں
حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو تھی
بہارِخُلدِ بریں ملی تو بچا کے دامن نکل گیا ہوں
احباب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں
آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید، یہ موقع نہیں تکرار کا
رُخ پہ گیسُو ڈال کر کہنا بُتِ عیار کا
وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا
جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پُتلیاں
تم ذرا ہٹ جاؤ، دم نکلے گا اب بیمار کا
اس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مو بھی نہیں
جس قدر ہم ہیں پریشاں، تِرے گیسو بھی نہیں
موت نے کتنا کج اخلاق بنایا ہے مجھے
لوگ روتے ہیں مِری آنکھ میں آنسو بھی نہیں
رات بھر جلنا ہے، آ جا ادھر اے پروانے
قابلِ رحم یہاں میں بھی نہیں، تُو بھی نہیں
تمام احباب کو عید کی مبارک ہو
انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
وہ شاخ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے
یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں
دن چھپ گیا سورج کا کہیں نام نہیں ہے
او وعدہ شکن! اب بھی تیری شام نہیں ہے
یہ جلوہ بہت خاص ہے کچھ عام نہیں ہے
کمزور نگاہوں کا یہاں کام نہیں ہے
اپنا ہی لہو دے کے گلستاں کو نکھارا
اپنا ہی گلستاں میں کہیں نام نہیں ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دیکھی
خوب جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی
تُو نے قبل از دو جہاں شان تجلّیٰ دیکھی
عرش سجتا ہوا، بنتی ہوئی دنیا دیکھی
تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیں
سب نے اللہ کو مانا تِری دیکھا دیکھی
ناخدا کا آسرا توہین ہے اے دل! نہ دیکھ
آبرو سے ڈوب کر مر جا سُوئے ساحل نہ دیکھ
او کماں والے! بہت سی راز کی باتیں بھی ہیں
ایک اپنے تیر کی خاطر ہمارا دل نہ دیکھ
حشر میں پیشِ خدا کس پر ہے پُرسش کا اثر
میرا منہ کیا دیکھتا ہے اپنا منہ قاتل! نہ دیکھ
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے
کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکا یک
نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے
چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے
غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے
کس یاس سے مرے ہیں مرِیض انتظار کے
قاتِل کو یاد کر کے قضا کو پُکار کے
مَقتَل میں حال پُوچھو نہ مُجھ بے قرار کے
تُم اپنے گھر کو جاؤ چُھری پھیر پھار کے
رُکتی نہیں ہے گرِدشِ ایّام کی ہنسی
لے آنا طاق سے مِرا ساغر اُتار کے
گو دورِ جام بزم میں، تا ختمِ شب رہا
لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا
پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا
بس رات بھر جلا تِری محفل میں جب رہا
ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا
جس نے اٹھائی آنکھ، وہی تشنہ لب رہا