Showing posts with label قمر جلالوی. Show all posts
Showing posts with label قمر جلالوی. Show all posts

Saturday, 30 September 2023

راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے

 راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے

یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے

وہ بھی کیا دور تھے ساقی! تِرے مستانوں کے

راستے راہ تکا کرتے تھے مے خانوں کے

بادلوں پر یہ اشارے تِرے دیوانوں کے

ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اُڑ کے گریبانوں کے

Wednesday, 16 August 2023

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں

 کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں

نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں

جفاؤں کے گلے تم سے خدا جانے بہت سے ہیں

مگر محشر کا دن ہے اپنے بیگانے بہت سے ہیں

بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو

تِری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں

Sunday, 13 August 2023

صبر آ گیا یہ کہہ کر دل سے غم وطن میں

 صبر آ گیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں

سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں

بلبل ہے گلستاں میں، پروانہ انجمن میں

سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں

صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی

جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں

Friday, 19 May 2023

سکون پایا ہے بے کسی نے حدود غم سے نکل گیا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سکون پایا ہے بے کسی نے حدودِ غم سے نکل گیا ہوں

خیالِ حضرتؐ جب آ گیا ہے تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں

کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں، کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں

تلاشِ جاناں میں کتنی منزل خدا ہی جانے نکل گیا ہوں

حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو تھی

بہارِخُلدِ بریں ملی تو بچا کے دامن نکل گیا ہوں

Saturday, 22 April 2023

آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

 احباب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں


آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا

آؤ مل لو عید، یہ موقع نہیں تکرار کا

رُخ پہ گیسُو ڈال کر کہنا بُتِ عیار کا

وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا

جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پُتلیاں

تم ذرا ہٹ جاؤ، دم نکلے گا اب بیمار کا

Friday, 15 July 2022

اس تیرے سر کی قسم فرق سر مو بھی نہیں

 اس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مو بھی نہیں​

جس قدر ہم ہیں پریشاں، تِرے گیسو بھی نہیں​

موت نے کتنا کج اخلاق بنایا ہے مجھے ​

لوگ روتے ہیں مِری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ​

رات بھر جلنا ہے، آ جا ادھر اے پروانے ​

قابلِ رحم یہاں میں بھی نہیں، تُو بھی نہیں

Saturday, 9 July 2022

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

تمام احباب کو عید کی مبارک ہو


 انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

وہ شاخ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں

تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں

وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے

یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں

Friday, 29 April 2022

دن چھپ گیا سورج کا کہیں نام نہیں ہے

 دن چھپ گیا سورج کا کہیں نام نہیں ہے

او وعدہ شکن! اب بھی تیری شام نہیں ہے

یہ جلوہ بہت خاص ہے کچھ عام نہیں ہے

کمزور نگاہوں کا یہاں کام نہیں ہے

اپنا ہی لہو دے کے گلستاں کو نکھارا

اپنا ہی گلستاں میں کہیں نام نہیں ہے

Thursday, 18 November 2021

تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دیکھی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دیکھی

خوب جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی

تُو نے قبل از دو جہاں شان تجلّیٰ دیکھی

عرش سجتا ہوا، بنتی ہوئی دنیا دیکھی

تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیں

سب نے اللہ کو مانا تِری دیکھا دیکھی

Saturday, 5 June 2021

ناخدا کا آسرا توہین ہے اے دل نہ دیکھ

ناخدا کا آسرا توہین ہے اے دل! نہ دیکھ

آبرو سے ڈوب کر مر جا سُوئے ساحل نہ دیکھ

او کماں والے! بہت سی راز کی باتیں بھی ہیں

ایک اپنے تیر کی خاطر ہمارا دل نہ دیکھ

حشر میں پیشِ خدا کس پر ہے پُرسش کا اثر

میرا منہ کیا دیکھتا ہے اپنا منہ قاتل! نہ دیکھ

Sunday, 20 December 2020

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

 نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے

کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکا یک

نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے

چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے

غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے

Wednesday, 2 December 2020

کس یاس سے مرے ہیں مریض انتظار کے

کس یاس سے مرے ہیں مرِیض انتظار کے

قاتِل کو یاد کر کے قضا کو پُکار کے

مَقتَل میں حال پُوچھو نہ مُجھ بے قرار کے

تُم اپنے گھر کو جاؤ چُھری پھیر پھار کے

رُکتی نہیں ہے گرِدشِ ایّام کی ہنسی

لے آنا طاق سے مِرا ساغر اُتار کے

Monday, 2 November 2020

گو دور جام بزم میں تا ختم شب رہا

 گو دورِ جام بزم میں، تا ختمِ شب رہا

لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا

پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا

بس رات بھر جلا تِری محفل میں جب رہا

ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا

جس نے اٹھائی آنکھ، وہی تشنہ لب رہا

Friday, 28 August 2020

یہاں تنگئ قفس ہے وہاں فکر آشیانہ

یہاں تنگئ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مِرا ٹھکانہ نہ وہاں مِرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک تِرے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ

تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک

تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہو؟
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
اس جگہ بزم میں ساقی نے بٹھایا ہے ہمیں
ہاتھ پھیلائیں تو جاتا نہیں 🍷پیمانے تک

Tuesday, 14 March 2017

نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری

نہ جانے ساغر و مِینا پہ، پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری
بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں
بتاؤ بزم والو! رات ڈھل جانے پہ کیا گزری
چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو
کہے گی خاکِ پروانہ، کہ پروانے پہ کیا گزری

بوسہ خال کی قیمت مری جاں ٹھہری ہے

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے
چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں
دو گھڑی کے لیے صیاد! زباں ٹھہری ہے
آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک
آگ نکلی ہے لگا کر، یہ جہاں ٹھہری ہے

یہاں تنگی قفس ہے وہاں فکر آشیانہ

یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مِرا ٹھکانہ، نہ وہاں مِرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک تِرے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی، کہ بدل گیا زمانہ

میرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا

میرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا
زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا
میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
کوئی فریاد کرنے آ رہا ہے، راستہ دینا 
اجازت ہو تو کہہ دوں، قصۂ الفت سرِ محفل
مجھے کچھ تو فسانہ یاد ہے، کچھ تم سنا دینا

Friday, 6 January 2017

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

باغِ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
پھول کی طرح ہنسے، رو دیئے شبنم کی طرح
شکوہ کرتے ہو، خوشی تم سے منائی نہ گئی
ہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح
روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہے 
اب نکلواؤ تو پھر حضرتِ آدم کی طرح