Saturday, 9 July 2022

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

تمام احباب کو عید کی مبارک ہو


 انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

وہ شاخ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں

تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں

وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے

یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں

نہ چھیڑ اتنا انہیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی

کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں

قمر افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سے

ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں


قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment