Saturday, 9 July 2022

عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست

 تمام احباب کو عید کی مبارک ہو


عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست

اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے

دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے

تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے

عید کے چاند!، مجھے محرمِ عشرت نہ بنا

میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے

مجھ پہ حیراں یہ اہلِ کرم رہنے دے

دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے

یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں

کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے

چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا

اتنے دن تُو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے


ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment