Saturday, 9 July 2022

عید کارڈ تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

 عید کارڈ


تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

مرمر کر یہ زہر پیا ہے

چپ رہنا آسان نہیں تھا

برسوں دل کا خون کیا ہے

جو کچھ گزری جیسی گزری

تجھ کو کب الزام دیا ہے

اپنے حال پہ خود رویا ہوں

خود ہی اپنا چاک سِیا ہے

کتنی جانکاہی سے میں نے

تجھ کو دل سے محو کیا ہے

سناٹے کی جھیل میں تُو نے

پھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے


احمد فراز


تمام احباب کو عید کی مبارک ہو

No comments:

Post a Comment