Showing posts with label نسیم شاہجہانپوری. Show all posts
Showing posts with label نسیم شاہجہانپوری. Show all posts

Thursday, 10 September 2026

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں

 نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں 

دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں

نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں 

یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں

لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی 

میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں

Tuesday, 3 March 2026

حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

 حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے 

عشق بادیدۂ نم ہو تو غزل ہوتی ہے

پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلی 

کوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے

کبھی دنیا ہو کبھی تم کبھی تقدیر خلاف 

روز اک تازہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

Monday, 11 November 2024

کسی کے عشق میں یہ حال زار رہتا ہے

 کسی کے عشق میں یہ حال زار رہتا ہے

سکون پا کے بھی دل بے قرار رہتا ہے

وہ مے کدہ میں بہت با وقار رہتا ہے

جو بے خودی میں بھی کچھ ہوشیار رہتا ہے

مجھے بہار گلستاں پہ ناز ہو کیوں کر

مری نظر میں مآل بہار رہتا ہے

Thursday, 17 October 2024

مانوس ہو چکے ہیں ترے آستاں سے ہم

 مانوس ہو چکے ہیں تِرے آستاں سے ہم

اب زندگی بدل کے اٹھیں گے یہاں سے ہم

تنہائیاں دلوں کی بھلا کس طرح مٹیں

کچھ اجنبی سے آپ ہیں کچھ بدگماں سے ہم

 اب عالمِ سکوت ہی رودادِ عشق ہے

کچھ عرض حال کر نہیں سکتے زباں سے ہم

Wednesday, 4 September 2024

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے

 تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے 

جب تاروں بھری رات کا احساس ہوا ہے

کچھ خود بھی ہوں میں عشق میں افسردہ و غمگیں 

کچھ تلخئ حالات کا احساس ہوا ہے

کیا دیکھیے ان تیرہ نصیبوں کا ہو انجام 

دن میں بھی جنہیں رات کا احساس ہوا ہے