Tuesday, 3 March 2026

حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

 حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے 

عشق بادیدۂ نم ہو تو غزل ہوتی ہے

پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلی 

کوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے

کبھی دنیا ہو کبھی تم کبھی تقدیر خلاف 

روز اک تازہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

دامن ضبط چھٹے چور ہو یا شیشۂ دل 

حادثہ کوئی اہم ہو تو غزل ہوتی ہے

شکن گیسوئے دوراں ہی پہ موقوف نہیں 

ان کی زلفوں میں بھی خم ہو تو غزل ہوتی ہے

چارہ گر لاکھ کریں کوشش درماں لیکن 

درد اس پر بھی نہ کم ہو تو غزل ہوتی ہے

راز تخلیق غزل ہم کو ہے معلوم نسیم

جام ہو مے ہو صنم ہو تو غزل ہوتی ہے


نسیم شاہجہانپوری

No comments:

Post a Comment