Tuesday, 3 March 2026

زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں

 زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں

ان کو شاعر نہیں شاعر کا چچا کہتے ہیں

ہم تو پتلی سی چھڑی بھی نہیں کہتے اس کو

لوگ اولاد کو پیری کا عصا کہتے ہیں

صرف افسر اسے کہنا تو کوئی بات نہیں

ہم تو صاحب کو کلرکوں کا خدا کہتے ہیں

شادیاں اپنی کیا کرتے ہیں جو لے کے طلاق

ان کو سب لوگ گدا ابن گدا کہتے ہیں

اس کو پیتے ہی کیا کرتا ہوں میں سیر فلک

آسمانی اسے سب لوگ بجا کہتے ہیں

آخرش ہو ہی گیا شیخ سے اور ہم سے ملاپ

وہ بھتیجا ہمیں ہم ان کو چچا کہتے ہیں

سن کے آواز اذاں مس نے یہ پوچھا ہاشم

اس قدر چیخ کے مسجد میں یہ کیا کہتے ہیں


ہاشم عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment