Tuesday, 3 March 2026

یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا

 لمس اول


یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا

وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی

سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی

جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی

دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے

تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں

جیسے دو ساغر رنگین کہیں چھلکے تھے

جب مرا ہاتھ ترے ہاتھ سے چھو جاتا تھا

تار جیسے کہیں بجلی کے سنک جاتے تھے

یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا


کیلاش ماہر

No comments:

Post a Comment