Tuesday, 3 March 2026

جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا

 جب سانس ہویں گے ختم اپنے عجیب رنج و ملال ہو گا

چھٹیں گے مال اور بال بچے تو جبر دل پہ کمال ہو گا

نہ کام آئیں گے یار اس دم نہ بہن بھائی نہ پسر و دختر

پھرے گا سارا جہان ہم سے نہ کوئی پُرسانِ حال ہو گا

کہے گی زوجہ نکالو جلدی، نہ شام آوے اب اس کو گھر پہ

ہو آگ اچھی، وگرنہ گھر میں یہ بھوت بن کر وبال ہو گا

ہری کی نگری ہری بھری ہے اور بوئے وحدت وہاں بڑی ہے

یہ رازِ سر بستہ سمجھا جس نے اسی کا ہر سے وصال ہو گا

خوشی غمی کو جو یکساں سمجھے، وہی ہے دنیا میں مردِ عاقل

وگرنہ بسمل! یہ یاد رکھنا، عمر کا کٹنا محال ہو گا


ہربھجن سنگھ سوڈی بسمل

No comments:

Post a Comment