کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا
بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا
لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو
میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا
وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا
جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا
ایک میں ہوں کہ بغاوت پہ کمر بستہ ہوں
اور اک تُو کہ طرفدارِ سلاسل ٹھہرا
خونِ دل پلکوں کی سرحد میں رکا ہے کب سے
قافلہ درد کا جیسے سرِ منزل ٹھہرا
شام کا وقت ہے سورج کی نگاہیں مت دیکھ
اپنے ہی خوں میں تڑپتا ہوا بسمل ٹھہرا
منصفِ وقت کی بے رحم نظر میں پیکر
کبھی وحشی، کبھی باغی، کبھی قاتل ٹھہرا
نور پیکر
No comments:
Post a Comment