Thursday, 12 March 2026

کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا

 کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا

بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا

لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو

میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا

وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا

جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا

ایک میں ہوں کہ بغاوت پہ کمر بستہ ہوں

اور اک تُو کہ طرفدارِ سلاسل ٹھہرا

خونِ دل پلکوں کی سرحد میں رکا ہے کب سے

قافلہ درد کا جیسے سرِ منزل ٹھہرا

شام کا وقت ہے سورج کی نگاہیں مت دیکھ

اپنے ہی خوں میں تڑپتا ہوا بسمل ٹھہرا

منصفِ وقت کی بے رحم نظر میں پیکر

کبھی وحشی، کبھی باغی، کبھی قاتل ٹھہرا


نور پیکر

No comments:

Post a Comment