اس پیار سے تو مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں
چنگاریوں کو پھر سے ہوا دے رہا ہے کیوں
اے چارہ گرہ میں محبت کی ہوں مریض
بس پیار مجھ کو دے دے دوا دے رہا ہے کیوں
تقسیم کرتے دیکھا تو تب راز یہ کھلا
اس آدمی کو اتنا خدا دے رہا ہے کیوں
دیوانہ ہے کوئی یا خدا کا ہے پھر ولی؟
یہ بے وفاؤں کو بھی وفا دے رہا ہے کیوں
مقصد ہے کیا ترا میری بینائی چھیننا
ہر تُو آنکھوں سے کیوں بڑا دے رہا ہے کیوں
موسم یہ ہجر کا تو پرانا ہے اے مہک
پھر دل پہ میرے زخم نیا دے رہا ہے کیوں
مہک کیرانوی
No comments:
Post a Comment