Wednesday, 18 March 2026

پھر دل پہ میرے زخم نیا دے رہا ہے کیوں

 اس پیار سے تو مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں

چنگاریوں کو پھر سے ہوا دے رہا ہے کیوں

اے چارہ گرہ میں محبت کی ہوں مریض

بس پیار مجھ کو دے دے دوا دے رہا ہے کیوں

تقسیم کرتے دیکھا تو تب راز یہ کھلا

اس آدمی کو اتنا خدا دے رہا ہے کیوں

دیوانہ ہے کوئی یا خدا کا ہے پھر ولی؟

یہ بے وفاؤں کو بھی وفا دے رہا ہے کیوں

مقصد ہے کیا ترا میری بینائی چھیننا

ہر تُو آنکھوں سے کیوں بڑا دے رہا ہے کیوں

موسم یہ ہجر کا تو پرانا ہے اے مہک

پھر دل پہ میرے زخم نیا دے رہا ہے کیوں


مہک کیرانوی

No comments:

Post a Comment