Showing posts with label اختر منیر. Show all posts
Showing posts with label اختر منیر. Show all posts

Thursday, 23 September 2021

جاگنے پر خواب کے کھونے کا دکھ

 جاگنے پر خواب کے کھونے کا دُکھ

رو پڑوں میں ہے نا یہ رونے کا دکھ

سونیا اور شاہ زادے کی خوشی

کون سمجھے ساتویں بونے کا دکھ

رت جگے کا اضطراب اپنی جگہ

اور اُس کے رات بھر سونے کا دکھ

Sunday, 9 May 2021

پاؤں زخمی اور تھکن سے چور ہیں ہم

 پاؤں زخمی اور تھکن سے چُور ہیں ہم

پھر بھی چلتے رہنے پر مجبور ہیں ہم

سو جائیں تو لاپرواہی ہو گی کیا؟

خوابوں کی رکھوالی پر معمور ہیں ہم

ہر اک دور کے ماتھے پر ہی ہوتے ہیں

پر تاریخ کے ماتھے کا سیندور ہیں ہم

Saturday, 8 May 2021

اپنی وحشت سے دوستی کر لیں

 اپنی وحشت سے دوستی کر لیں

ہم نے کر لی ہے آپ بھی کر لیں

ہم نے دیوانگی گھٹا لی ہے

آپ بھی حُسن میں کمی کر لیں

آپ سے پیار ہے ہمیں لیکن

آپ چاہیں تو دل لگی کر لیں

کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی

 کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی

ہم دونوں کی جوڑی کتنی اچھی تھی

میں چُپ رہ کر بھی کچھ کہنے والا تھا

آوازوں میں دب گئی میری خاموشی

چائے کا رنگ اس کے گالوں جیسا ہے

یہ سوچا، آنکھیں مُوندیں، اور چُسکی لی

Friday, 18 December 2020

کیوں نہ ہو آنکھ کی پذیرائی

 کیوں نہ ہو آنکھ کی پذیرائی

یہ تجھے خواب میں بھی لے آئی

زندگی چار پانچ دن کی ہے

پانچویں دن مجھے سمجھ آئی

وقت، تاریخ نوٹ کر لینا

آج وہ پہلی بار شرمائی

دل کے اندر آگ لگائی جا سکتی ہے

 دل💖 کے اندر آگ لگائی جا سکتی ہے

دل والوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے

اس نے ہنس کر میری جانب دیکھ لیا ہے

یعنی اس سے بات بڑھائی جا سکتی ہے

سات سمندر پار تو باتیں ہو جاتی ہیں

کیا ماضی میں کال ملائی جا سکتی ہے