جاگنے پر خواب کے کھونے کا دُکھ
رو پڑوں میں ہے نا یہ رونے کا دکھ
سونیا اور شاہ زادے کی خوشی
کون سمجھے ساتویں بونے کا دکھ
رت جگے کا اضطراب اپنی جگہ
اور اُس کے رات بھر سونے کا دکھ
جاگنے پر خواب کے کھونے کا دُکھ
رو پڑوں میں ہے نا یہ رونے کا دکھ
سونیا اور شاہ زادے کی خوشی
کون سمجھے ساتویں بونے کا دکھ
رت جگے کا اضطراب اپنی جگہ
اور اُس کے رات بھر سونے کا دکھ
پاؤں زخمی اور تھکن سے چُور ہیں ہم
پھر بھی چلتے رہنے پر مجبور ہیں ہم
سو جائیں تو لاپرواہی ہو گی کیا؟
خوابوں کی رکھوالی پر معمور ہیں ہم
ہر اک دور کے ماتھے پر ہی ہوتے ہیں
پر تاریخ کے ماتھے کا سیندور ہیں ہم
اپنی وحشت سے دوستی کر لیں
ہم نے کر لی ہے آپ بھی کر لیں
ہم نے دیوانگی گھٹا لی ہے
آپ بھی حُسن میں کمی کر لیں
آپ سے پیار ہے ہمیں لیکن
آپ چاہیں تو دل لگی کر لیں
کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی
ہم دونوں کی جوڑی کتنی اچھی تھی
میں چُپ رہ کر بھی کچھ کہنے والا تھا
آوازوں میں دب گئی میری خاموشی
چائے کا رنگ اس کے گالوں جیسا ہے
یہ سوچا، آنکھیں مُوندیں، اور چُسکی لی
کیوں نہ ہو آنکھ کی پذیرائی
یہ تجھے خواب میں بھی لے آئی
زندگی چار پانچ دن کی ہے
پانچویں دن مجھے سمجھ آئی
وقت، تاریخ نوٹ کر لینا
آج وہ پہلی بار شرمائی
دل💖 کے اندر آگ لگائی جا سکتی ہے
دل والوں سے جان چھڑائی جا سکتی ہے
اس نے ہنس کر میری جانب دیکھ لیا ہے
یعنی اس سے بات بڑھائی جا سکتی ہے
سات سمندر پار تو باتیں ہو جاتی ہیں
کیا ماضی میں کال ملائی جا سکتی ہے