Saturday, 8 May 2021

کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی

 کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی

ہم دونوں کی جوڑی کتنی اچھی تھی

میں چُپ رہ کر بھی کچھ کہنے والا تھا

آوازوں میں دب گئی میری خاموشی

چائے کا رنگ اس کے گالوں جیسا ہے

یہ سوچا، آنکھیں مُوندیں، اور چُسکی لی

ڈر سا لگنے لگتا ہے یہ خواب نہ ہو

اس کو چھُو لینے میں اتنی آسانی


اختر منیر

No comments:

Post a Comment