کچھ سالوں کے بعد تو بیٹھی سوچے گی
ہم دونوں کی جوڑی کتنی اچھی تھی
میں چُپ رہ کر بھی کچھ کہنے والا تھا
آوازوں میں دب گئی میری خاموشی
چائے کا رنگ اس کے گالوں جیسا ہے
یہ سوچا، آنکھیں مُوندیں، اور چُسکی لی
ڈر سا لگنے لگتا ہے یہ خواب نہ ہو
اس کو چھُو لینے میں اتنی آسانی
اختر منیر
No comments:
Post a Comment