یہ تصویریں
نجات ان سے نہ پاؤ گے
دبے پاؤں بڑھے آتے ہیں سائے
صداؤں کے حصاروں سے
چلو مانا
نکل کر چل دئیے اک دن
کہاں تک پھر بھی جاؤ گے
لگی جب جسم و جاں کو آگ جل اٹھا
فتیلہ بھی مرے دل کا
مجھے معلوم ہے اک دن
دھماکہ سا کہیں ہو گا
گرا ہوا اک مکاں جیسے
پھٹا ہوا آسماں جیسے
یہی لمحہ ہے جس سے خوف آتا ہے مجھے
لیکن مجھے معلوم ہے، اس سے ذرا پہلے
سنوں گا باز گشت ایسی جو مجھ میں ہی نہاں ہو گی
مرے جاں سے گزرنے کی صدائے بے اماں ہو گی
جمشید مسرور
No comments:
Post a Comment