Saturday, 8 May 2021

یہ تصویریں نجات ان سے نہ پاؤ گے

 یہ تصویریں

نجات ان سے نہ پاؤ گے

دبے پاؤں بڑھے آتے ہیں سائے

صداؤں کے حصاروں سے

چلو مانا

نکل کر چل دئیے اک دن

کہاں تک پھر بھی جاؤ گے

لگی جب جسم و جاں کو آگ جل اٹھا

فتیلہ بھی مرے دل کا

مجھے معلوم ہے اک دن

دھماکہ سا کہیں ہو گا

گرا ہوا اک مکاں جیسے

پھٹا ہوا آسماں جیسے

یہی لمحہ ہے جس سے خوف آتا ہے مجھے

لیکن مجھے معلوم ہے، اس سے ذرا پہلے

سنوں گا باز گشت ایسی جو مجھ میں ہی نہاں ہو گی

مرے جاں سے گزرنے کی صدائے بے اماں ہو گی


جمشید مسرور

No comments:

Post a Comment