غزہ زندہ ہے
تم نے سمجھا تھا کہ بارود سے گھر ڈھانے سے
خونِ نا حق کو سرِ عام بہا دینے سے
بات رک جائے گی
آواز بھی تھم جائے گی
نہ کوئی حشر بپا ہو گا نہ ایوانوں میں
کوئی بھی حرفِ جنوں
غزہ زندہ ہے
تم نے سمجھا تھا کہ بارود سے گھر ڈھانے سے
خونِ نا حق کو سرِ عام بہا دینے سے
بات رک جائے گی
آواز بھی تھم جائے گی
نہ کوئی حشر بپا ہو گا نہ ایوانوں میں
کوئی بھی حرفِ جنوں
امید
کہیں پر سُرمئی شاموں میں
دُھندلے منظروں اور
خواب چہروں کو
وہی ہے جو بصارت کی حدوں میں قید کرتا ہے
وہی ہے جو نگارِ صبح کی
ٹُوٹی ہوئی امید کو
یہ خوں بہا تو نہیں
یہ خوں بہا تو نہیں شامِ غم کا سودا ہے
متاعِ زیست کا، درد و الم کا سودا ہے
یہ خوں بہا مِرے آدرش کی تجارت ہے
یہ میری فکر کا لوح و قلم کا سودا ہے
یہ میرے گھر میں حمیت کا باب بند ہوا
سنان و سیف کا طبل و علم کا سودا ہے
شام گہری ہو جائے غم شمار پھر کرنا
اک دیا جلا لینا، ذکر یار پھر کرنا
ڈوبتے ہوئے سورج کی اداس کرنوں سے
اک کسک چُرا لینا، دل فِگار پھر کرنا
بھیگتے دنوں میں گھر موم کے بنا لو تم
دھوپ کی تمازت کا انتظار پھر کرنا
برف کو پگھلنے دو
دل بہت شکستہ ہے یہ ذرا سنبھل جائے
آخرِ زمستاں کی برف بھی پگھل جائے
چاک سارے سل جائیں
اور زخم بھر جائیں
ساعتیں شبِ غم کی