Showing posts with label افتخار برنی. Show all posts
Showing posts with label افتخار برنی. Show all posts

Thursday, 3 October 2024

غزہ زندہ ہے

 غزہ زندہ ہے


تم نے سمجھا تھا کہ بارود سے گھر ڈھانے سے

خونِ نا حق کو سرِ عام بہا دینے سے

بات رک جائے گی

آواز بھی تھم جائے گی

نہ کوئی حشر بپا ہو گا نہ ایوانوں میں

کوئی بھی حرفِ جنوں

Friday, 10 November 2023

کہیں پر سرمئی شاموں میں

 امید


کہیں پر سُرمئی شاموں میں

دُھندلے منظروں اور

خواب چہروں کو

وہی ہے جو بصارت کی حدوں میں قید کرتا ہے

وہی ہے جو نگارِ صبح کی

ٹُوٹی ہوئی امید کو

Thursday, 9 November 2023

یہ خوں بہا تو نہیں شام غم کا سودا ہے

 یہ خوں بہا تو نہیں


یہ خوں بہا تو نہیں شامِ غم کا سودا ہے

متاعِ زیست کا، درد و الم کا سودا ہے

یہ خوں بہا مِرے آدرش کی تجارت ہے

یہ میری فکر کا لوح و قلم کا سودا ہے

یہ میرے گھر میں حمیت کا باب بند ہوا

سنان و سیف کا طبل و علم کا سودا ہے

Monday, 12 April 2021

شام گہری ہو جائے غم شمار پھر کرنا

 شام گہری ہو جائے غم شمار پھر کرنا

اک دیا جلا لینا، ذکر یار پھر کرنا

ڈوبتے ہوئے سورج کی اداس کرنوں سے

اک کسک چُرا لینا، دل فِگار پھر کرنا

بھیگتے دنوں میں گھر موم کے بنا لو تم

دھوپ کی تمازت کا انتظار پھر کرنا

Friday, 9 April 2021

دل بہت شکستہ ہے یہ ذرا سنبھل جائے

 برف کو پگھلنے دو


دل بہت شکستہ ہے یہ ذرا سنبھل جائے

آخرِ زمستاں کی برف بھی پگھل جائے

چاک سارے سل جائیں

اور زخم بھر جائیں

ساعتیں شبِ غم کی