عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یثرب کی رہگزار ہو اور پائے آرزُو
یا رب کسی طرح تو یہ بر آئے آرزو
ارمان طوافِ کعبہ کے ایمان بن گئے
مُرجھا کے دُونے کِھل گئے گُلہائے آرزو
غارِ حِرا کے پاس کہیں جا کے بس رہوں
دل میں مچل رہی ہے یہ دُنیائے آرزو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یثرب کی رہگزار ہو اور پائے آرزُو
یا رب کسی طرح تو یہ بر آئے آرزو
ارمان طوافِ کعبہ کے ایمان بن گئے
مُرجھا کے دُونے کِھل گئے گُلہائے آرزو
غارِ حِرا کے پاس کہیں جا کے بس رہوں
دل میں مچل رہی ہے یہ دُنیائے آرزو
چاکِ دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
اپنی تصویر کہاں بھُول گیا عید کا چاند
اُن کے اَبرُوئے خمیدہ کی طرح تِیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُبھا عید کا چاند
جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چُپکے سے کہا عید کا چاند
ملی ترانہ میرے وطن
جانِ فردوس ہیں تیرے کوہ و دمن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن
تُجھ پہ صدقے ہے تن تُجھ پہ قُرباں ہے مَن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن
تیرے دریاؤں میں ہیں سفینے رواں
اے مقامِ جہانگیر و نُورجہاں
ملی ترانہ میرے وطن کے راہنماؤ
فریاد کے تقاضے ہیں نغمۂ سخن میں
الفاظ سو گئے ہیں کاغذ کے پیرہن میں
ہر آن ڈس رہی ہیں ماضی کی تلخ یادیں
محسوس کر رہا ہوں بے چارگی وطن میں
ٹکڑا کوئی عطا ہو احرامِ بندگی کا
سوراخ پڑ گئے ہیں اخلاص کے کفن میں
تمام احباب کو عید کی مبارک ہو
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے
عید کے چاند!، مجھے محرمِ عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
جام ٹکراؤ، وقت نازک ہے
رنگ چھلکاؤ، وقت نازک ہے
حسرتوں کی حسین قبروں پر
پھول برساؤ، وقت نازک ہے
اک فریب اور زندگی کے لیے
ہاتھ پھیلاؤ، وقت نازک ہے
چمن پہ دام پہ درویش مسکراتا ہے
ہر اک مقام پہ درویش مسکراتا ہے
صراحی بزم میں جب قہقہے اگلتی ہے
سکوت جام پہ درویش مسکراتا ہے
ہزار حشر اٹھا اے تغیر دنیا
تیرے خرام پہ درویش مسکراتا ہے
تفریق نے جادو بھی جگایا ہے بلا کا
خطرے میں ہے اے یار چمن مہر و وفا کا
توہین ہے درویش کا اس شہر میں جینا
ہو فاقہ کشی نام جہاں صبر و رضا کا
اب تک کا تفکر غمِ تقدیر کا چارہ
سینے میں پتہ رکھتے ہیں جو ارض و سما کا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لبوں پہ جس کے محمدﷺ کا نام رہتا ہے
وہ راہِ خُلد پہ محوِ خرام رہتا ہے
جو سر جُھکائے محمدؐ کے آستانے پر
زمانہ اُس کا ہمیشہ غُلام رہتا ہے
ہمیں نہ چھیڑ کہ وارفتگانِ بطحا ہیں
ہمیں تو شوقِ مدینہ، مدام رہتا ہے
ہنس نہیں سکتے شگوفے تازگی سے روٹھ کر
ہم زمانے میں جئے ہیں زندگی سے روٹھ کر
زلف جاناں سے ملی فکر و نظر کی چاندنی
ظلمتیں ہم نے نکھاریں، روشنی سے روٹھ کر
خود منانے کے لیے آئے مجھے دیر و حرم
سجدۂ الہام پایا بندگی سے روٹھ کر
رنگِ وطن
چمن چمن، کلی کلی، روِش روِش پُکار دو
وطن کو سرفروش دو، وطن کو جاں نثار دو
جو اپنے غیضِ بے کراں سے کوہسارِ پیس دیں
جو آسماں کو چِیر دیں، ہمیں وہ شہسوار دو
یہی ہے عظمتوں کا اِک اصُولِ جاوداں حضُور
امیر کو شجاعتیں،۔ غریب کو وقار دو
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روِش پر نکہتوں کی آبرُو جلنے لگی
پھر لغّاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرِد مندو! ادائے گُفتگُو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نَو ورائے ما و تُو جلنے لگی
راہزن آدمی، رہنما آدمی
دستُور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں، فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا
خاکِ گلشن میں جب آشیانہ ہوا
زلفِ برہم سے جب سے شناسائی ہے
زندگی کا چلن مجرمانہ ہوا
پھول جلتے رہے چاند ہنستا رہا
آرزو کا مکمل فسانہ ہوا
عطا جسے تیرے عکس جمال ہوتا ہے
وہ پھول سارے گلستاں کا لال ہوتا ہے
تلاش کرتی ہے سائے تمہارے آنچل کے
چمن میں باد صبا کا یہ حال ہوتا ہے
رہ مجاز میں ہیں منزلیں حقیقت کی
مگر یہ اہل نظر کا خیال ہوتا ہے
تن سلگتا ہے من سلگتا ہے
جب بہاروں میں من سلگتا ہے
نوجوانی عجیب نشہ ہے
چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے
جب وہ محو خرام ہوتے ہیں
انگ سرو سمن سلگتا ہے
میری آنکھوں میں امڈ آیا ہے دریا دل کا
پھر کہیں ٹوٹ گیا نہ ہو کنارہ دل کا
اسی کوشش میں بہت عمر گنوا دی میں نے
پھر بھی پورا نہ ہوا خسارہ دل کا
کیوں نہ اے دوست ابھی ترکِ محبت کر لیں
اس سے پہلے کہ بدل جائے ارادہ دل کا
ٹوٹا ہے دل پہ کوہ ستم نین رو پڑے
دیکھا جو ماہ رنج و الم نین رو پڑے
رونے سے دهل گئی ہے بصیرت کی آبرو
یہ بھی حسین کا ہے کرم نین رو پڑے
تفسیر لا الہ رخ قاسم کی تابشیں
یاد آ گئی جبین حرم نین رو پڑے