Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label ساغر صدیقی. Show all posts

Saturday, 3 August 2024

یثرب کی رہگزار ہو اور پائے آرزو

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یثرب کی رہگزار ہو اور پائے آرزُو

یا رب کسی طرح تو یہ بر آئے آرزو

ارمان طوافِ کعبہ کے ایمان بن گئے

مُرجھا کے دُونے کِھل گئے گُلہائے آرزو

غارِ حِرا کے پاس کہیں جا کے بس رہوں

دل میں مچل رہی ہے یہ دُنیائے آرزو

Wednesday, 10 April 2024

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

 چاکِ دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

اپنی تصویر کہاں بھُول گیا عید کا چاند

اُن کے اَبرُوئے خمیدہ کی طرح تِیکھا ہے

اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُبھا عید کا چاند

جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں

جب کبھی کان میں چُپکے سے کہا عید کا چاند

Sunday, 13 August 2023

زندہ باد اے وطن زندہ باد اے وطن

 ملی ترانہ میرے وطن


جانِ فردوس ہیں تیرے کوہ و دمن 

زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تُجھ پہ صدقے ہے تن تُجھ پہ قُرباں ہے مَن 

زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن


تیرے دریاؤں میں ہیں سفینے رواں 

اے مقامِ جہانگیر و نُورجہاں

میرے وطن کے رہنماؤ

 ملی ترانہ میرے وطن کے راہنماؤ


میرے وطن کے راہنماؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
جس میں ہو صدیقؓ کی عظمت
جس میں ہو عثمانؓ کی عقیدت
جس میں ہو فاروقؓ کی جرئات
جس میں ہو حیدرؓ کی شجاعت
مِٹ جائیں ظلمات کے گھاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

Sunday, 24 July 2022

فریاد کے تقاضے ہیں نغمۂ سخن میں

 فریاد کے تقاضے ہیں نغمۂ سخن میں

الفاظ سو گئے ہیں کاغذ کے پیرہن میں

ہر آن ڈس رہی ہیں ماضی کی تلخ یادیں

محسوس کر رہا ہوں بے چارگی وطن میں

ٹکڑا کوئی عطا ہو احرامِ بندگی کا

سوراخ پڑ گئے ہیں اخلاص کے کفن میں

Saturday, 9 July 2022

عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست

 تمام احباب کو عید کی مبارک ہو


عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست

اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے

دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے

تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے

عید کے چاند!، مجھے محرمِ عشرت نہ بنا

میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے

Wednesday, 20 April 2022

جام ٹکراؤ وقت نازک ہے

 جام ٹکراؤ، وقت نازک ہے

رنگ چھلکاؤ، وقت نازک ہے

حسرتوں کی حسین قبروں پر

پھول برساؤ، وقت نازک ہے

اک فریب اور زندگی کے لیے

ہاتھ پھیلاؤ، وقت نازک ہے

Monday, 4 April 2022

چمن پہ دام پہ درویش مسکراتا ہے

 چمن پہ دام پہ درویش مسکراتا ہے

ہر اک مقام پہ درویش مسکراتا ہے

صراحی بزم میں جب قہقہے اگلتی ہے

سکوت جام پہ درویش مسکراتا ہے

ہزار حشر اٹھا اے تغیر دنیا

تیرے خرام پہ درویش مسکراتا ہے

Monday, 21 February 2022

تفریق نے جادو بھی جگایا ہے بلا کا

 تفریق نے جادو بھی جگایا ہے بلا کا

خطرے میں ہے اے یار چمن مہر و وفا کا

توہین ہے درویش کا اس شہر میں جینا

ہو فاقہ کشی نام جہاں صبر و رضا کا

اب تک کا تفکر غمِ تقدیر کا چارہ

سینے میں پتہ رکھتے ہیں جو ارض و سما کا

Friday, 10 December 2021

لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لبوں پہ جس کے محمدﷺ کا نام رہتا ہے

وہ راہِ خُلد پہ محوِ خرام رہتا ہے

جو سر جُھکائے محمدؐ کے آستانے پر

زمانہ اُس کا ہمیشہ غُلام رہتا ہے

ہمیں نہ چھیڑ کہ وارفتگانِ بطحا ہیں

ہمیں تو شوقِ مدینہ، مدام رہتا ہے

Saturday, 3 April 2021

ہنس نہیں سکتے شگوفے تازگی سے روٹھ کر

ہنس نہیں سکتے شگوفے تازگی سے روٹھ کر

ہم زمانے میں جئے ہیں زندگی سے روٹھ کر

زلف جاناں سے ملی فکر و نظر کی چاندنی

ظلمتیں ہم نے نکھاریں، روشنی سے روٹھ کر

خود منانے کے لیے آئے مجھے دیر و حرم

سجدۂ الہام پایا بندگی سے روٹھ کر

Thursday, 11 February 2021

چمن چمن کلی کلی روش روش پکار دو

 رنگِ وطن 


چمن چمن، کلی کلی، روِش روِش پُکار دو

وطن کو سرفروش دو، وطن کو جاں نثار دو

جو اپنے غیضِ بے کراں سے کوہسارِ پیس دیں

جو آسماں کو چِیر دیں، ہمیں وہ شہسوار دو

یہی ہے عظمتوں کا اِک اصُولِ جاوداں حضُور

امیر کو شجاعتیں،۔ غریب کو وقار دو

اے چمن والو متاع رنگ و بو جلنے لگی

 اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

ہر روِش پر نکہتوں کی آبرُو جلنے لگی

پھر لغّاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں 

اے خرِد مندو! ادائے گُفتگُو جلنے لگی

قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا

ایک شمعِ نَو ورائے ما و تُو جلنے لگی

راہزن آدمی رہنما آدمی

 راہزن آدمی، رہنما آدمی

بارہا بن چکا ہے خُدا آدمی
ہائے تخلیق کی کارپردازیاں
خاک سی چیز کو کہہ دیا آدمی
کُھل گئے جنّتوں کے وہاں زائچے
دو قدم جُھوم جُھوم کر جب چلا آدمی

دستور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں، فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

دستُور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں، فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

اے دوست! خُدا کا نام نہ لے، ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لِپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں، عُنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زردار توقع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پر
مزدُور یہاں بھی دیوانے، ذی شان یہاں بھی اندھے ہیں

Sunday, 20 December 2020

ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا

 ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا

خاکِ گلشن میں جب آشیانہ ہوا

زلفِ برہم سے جب سے شناسائی ہے

زندگی کا چلن مجرمانہ ہوا

پھول جلتے رہے چاند ہنستا رہا

آرزو کا مکمل فسانہ ہوا

Friday, 23 October 2020

عطا جسے تیرے عکس جمال ہوتا ہے

 عطا جسے تیرے عکس جمال ہوتا ہے

وہ پھول سارے گلستاں کا لال ہوتا ہے

تلاش کرتی ہے سائے تمہارے آنچل کے

چمن میں باد صبا کا یہ حال ہوتا ہے

رہ مجاز میں ہیں منزلیں حقیقت کی

مگر یہ اہل نظر کا خیال ہوتا ہے

Thursday, 22 October 2020

تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

 تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

جب بہاروں میں من سلگتا ہے

نوجوانی عجیب نشہ ہے

چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

انگ سرو سمن سلگتا ہے

میری آنکھوں میں امڈ آیا ہے دریا دل کا

 میری آنکھوں میں امڈ آیا ہے دریا دل کا

پھر کہیں ٹوٹ گیا نہ ہو کنارہ دل کا

اسی کوشش میں بہت عمر گنوا دی میں نے

پھر بھی پورا نہ ہوا خسارہ دل کا

کیوں نہ اے دوست ابھی ترکِ محبت کر لیں

اس سے پہلے کہ بدل جائے ارادہ دل کا

Monday, 19 October 2020

ٹوٹا ہے دل پہ کوہ ستم نین رو پڑے

 ٹوٹا ہے دل پہ کوہ ستم نین رو پڑے

دیکھا جو ماہ رنج و الم نین رو پڑے

رونے سے دهل گئی ہے بصیرت کی آبرو

یہ بھی حسین کا ہے کرم نین رو پڑے

تفسیر لا الہ رخ قاسم کی تابشیں

یاد آ گئی جبین حرم نین رو پڑے