Friday, 10 December 2021

لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لبوں پہ جس کے محمدﷺ کا نام رہتا ہے

وہ راہِ خُلد پہ محوِ خرام رہتا ہے

جو سر جُھکائے محمدؐ کے آستانے پر

زمانہ اُس کا ہمیشہ غُلام رہتا ہے

ہمیں نہ چھیڑ کہ وارفتگانِ بطحا ہیں

ہمیں تو شوقِ مدینہ، مدام رہتا ہے

وہ دو جہاں کے اَمیں ہیں، اُنہی کے ہاتھوں میں

سپُرد کون و مکاں کا نظام رہتا ہے

جو غمگُسار ہے نادار اور غریبوں کا

وہ قُدسیوں میں بھی عالی مقام رہتا ہے

لگن ہے آلِ مدینہ کی جس کے سِینے میں

وہ زندگی میں بہت شادکام رہتا ہے

ہمیں ضرورتِ آبِ بقا نہیں ساغر

ہمارے سامنے کوثر کا جام رہتا ہے


ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment