عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عشق مہمان ہوا حسن کے گھر آج کی رات
جذبۂ دل ہے با آغوش اثر آج کی رات
بختِ بیدار نے دی دولتِ سرمد کی نوید
کیوں نہ آنکھوں میں کٹے تابہ سحر آج کی رات
اپنے اللہ سے ملنے کے لیے جاتا ہے
اپنے اللہ کا منظورِ نظر آج کی رات
ماہ و انجم نے سرِ راہ بچھا دیں آنکھیں
کیونکہ ہے ناقۂ اسریٰ کا سفر آج کی رات
کہکشاں جلوہ فشاں ہے کہ اسی رستہ سے
ہونے والا ہے محمدﷺ کا گزر آج کی رات
چاند کیا چیز ہے، سورج کی حقیقت کیا ہے
پرتوِ نور سے روشن ہے نظر آج کی رات
اٹھ گیا چہرۂ ہستی سے نقابِ اسرار
لائی ہے رازِ امانت کی خبر آج کی رات
مل گئی دونوں جہانوں کے خزانوں کی کلید
اپنی معراج کو پہنچا ہے بشر آج کی رات
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment