Friday, 10 December 2021

اپنی معراج کو پہنچا ہے بشر آج کی رات

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عشق مہمان ہوا حسن کے گھر آج کی رات

جذبۂ دل ہے با آغوش اثر آج کی رات

بختِ بیدار نے دی دولتِ سرمد کی نوید

کیوں نہ آنکھوں میں کٹے تابہ سحر آج کی رات

اپنے اللہ سے ملنے کے لیے جاتا ہے

اپنے اللہ کا منظورِ نظر آج کی رات

ماہ و انجم نے سرِ راہ بچھا دیں آنکھیں

کیونکہ ہے ناقۂ اسریٰ کا سفر آج کی رات

کہکشاں جلوہ فشاں ہے کہ اسی رستہ سے

ہونے والا ہے محمدﷺ کا گزر آج کی رات

چاند کیا چیز ہے، سورج کی حقیقت کیا ہے

پرتوِ نور سے روشن ہے نظر آج کی رات

اٹھ گیا چہرۂ ہستی سے نقابِ اسرار

لائی ہے رازِ امانت کی خبر آج کی رات

مل گئی دونوں جہانوں کے خزانوں کی کلید

اپنی معراج کو پہنچا ہے بشر آج کی رات


مولانا ظفر علی خان

No comments:

Post a Comment