جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا
آنکھوں میں ٹھہرا اشک تو پتھر کا ہو گیا
پُوجا اسے تو اس کو لگا دیوتا ہوں میں
پھر رنگ دوسرا ہی ستمگر کا ہو گیا
اس نے ہر ایک بات کہی یوں تراش کر
جیسے اثر زبان میں خنجر کا ہو گیا
جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا
آنکھوں میں ٹھہرا اشک تو پتھر کا ہو گیا
پُوجا اسے تو اس کو لگا دیوتا ہوں میں
پھر رنگ دوسرا ہی ستمگر کا ہو گیا
اس نے ہر ایک بات کہی یوں تراش کر
جیسے اثر زبان میں خنجر کا ہو گیا
شمع بجھنے لگی خیالوں کی
زندگی ختم ہے اجالوں کی
من کی تنہائیاں سسکتی ہیں
دور شہنائیاں ہچکتی ہیں
چند الجھے ہوئے سوالوں کو
یاد کر دور جانے والوں کو
دل مضطرب ہے دیدۂ تر لے کے آ گیا
مجھ کو جنونِ عشق کدھر لے کے آ گیا
ہنستا ہوا گیا تِری محفل میں ہر کوئی
لوٹا تو ساتھ دردِ جگر لے کے آ گیا
پہلے تو قتل کر دیا کافر نگاہ سے
پھر یہ ستم کے تیغ و تبر لے کے آ گیا
میں آئینہ ہوں مجھ کو بکھرنے کا ڈر نہیں
دنیا یہ جانتی ہے بس اس کو خبر نہیں
پتھر کدھر سے آیا تھا معلوم ہے مجھے
مجھ کو کسی سے آج بھی شکوہ مگر نہیں
سائے میں جس کے بیٹھ کے رو لوں میں دو گھڑی
اس رہگزر میں ایک بھی ایسا شجر نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل کو میرے جو سکوں آپؐ کے دربار میں ہے
لطف حاصل وہ کہاں مصر کے بازار میں ہے
شاہوں کے شاہ ہیں سرکارﷺ مدینے والے
جذبۂ عشقِ محمدﷺ در و دیوار میں ہے
آپﷺ آئے تو اندھیروں کے مقدر جاگے
چاند سورج سی ضیا آپؐ کے رخسار میں ہے
دسمبر جا رہے ہو کیا
بتاؤ جا رہے ہو کیا
سبھی سے اب جدا ہو کر
ہمیں خدا حافظ کہہ کر
کوئی سورج نیا لینے
امیدوں کی ضیا لینے
روٹھے ہیں اس قدر کہ منایا نہ جائے گا
آئی ہے نیند یوں کہ جگایا نہ جائے گا
ہے کون سا دیار؟ جہاں آپ جا بسے
اور کہہ گئے کہ لوٹ کے آیا نہ جائے گا
روئیں گے ہم بھی جائیے ہر روز ہر گھڑی
اب آپ سے تو چُپ بھی کرایا نہ جائے گا
میں تاج محل ہوں
میں پیار کا نغمہ ہوں محبت کی غزل ہوں
قائم ہے مِری شان کہ میں تاج محل ہوں
جمنا کے کنارے پہ میں صدیوں سے کھڑا ہوں
میں وقت کی انگلی میں نگینے سا جڑا ہوں
میں چاندنی راتوں میں کِھلا ایک کنول ہوں
قائم ہے مِری شان کہ میں تاج محل ہوں
جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا
آنکھوں میں ٹھہرا اشک تو پتھر کا ہو گیا
پوجا اسے تو اس کو لگا دیوتا ہوں میں
پھر رنگ دوسرا ہی ستمگر کا ہو گیا
اس نے ہر ایک بات کہی یوں تراش کر
جیسے اثر زبان میں خنجر کا ہو گیا
غموں کے بوجھ سے بکھرا پڑا سا لگتا ہے
اے زندگی! تِرا چہرہ بجھا سا لگتا ہے
بکھیرتی ہوں تبسم تو لوگ کہتے ہیں
تمہاری آنکھوں میں آنسو رُکا سا لگتا ہے
جگر پے چوٹ لگے مدتیں ہوئی ہوں گی
مگر یہ زخم ابھی تک ہرا سا لگتا ہے