Showing posts with label عطیہ نور. Show all posts
Showing posts with label عطیہ نور. Show all posts

Thursday, 2 November 2023

جب بہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا

 جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا

آنکھوں میں ٹھہرا اشک تو پتھر کا ہو گیا

پُوجا اسے تو اس کو لگا دیوتا ہوں میں

پھر رنگ دوسرا ہی ستمگر کا ہو گیا

اس نے ہر ایک بات کہی یوں تراش کر

جیسے اثر زبان میں خنجر کا ہو گیا

Friday, 29 April 2022

شمع بجھنے لگی خیالوں کی زندگی ختم ہے اجالوں کی

شمع بجھنے لگی خیالوں کی

زندگی ختم ہے اجالوں کی

من کی تنہائیاں سسکتی ہیں

دور شہنائیاں ہچکتی ہیں

چند الجھے ہوئے سوالوں کو

یاد کر دور جانے والوں کو

Wednesday, 20 April 2022

دل مضطرب ہے دیدۂ تر لے کے آ گیا

 دل مضطرب ہے دیدۂ تر لے کے آ گیا

مجھ کو جنونِ عشق کدھر لے کے آ گیا

ہنستا ہوا گیا تِری محفل میں ہر کوئی

لوٹا تو ساتھ دردِ جگر لے کے آ گیا

پہلے تو قتل کر دیا کافر نگاہ سے

پھر یہ ستم کے تیغ و تبر لے کے آ گیا

Tuesday, 22 March 2022

میں آئینہ ہوں مجھ کو بکھرنے کا ڈر نہیں

 میں آئینہ ہوں مجھ کو بکھرنے کا ڈر نہیں

دنیا یہ جانتی ہے بس اس کو خبر نہیں

پتھر کدھر سے آیا تھا معلوم ہے مجھے

مجھ کو کسی سے آج بھی شکوہ مگر نہیں

سائے میں جس کے بیٹھ کے رو لوں میں دو گھڑی

اس رہگزر میں ایک بھی ایسا شجر نہیں

Friday, 4 March 2022

دل کو میرے جو سکوں آپ کے دربار میں ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل کو میرے جو سکوں آپؐ کے دربار میں ہے

لطف حاصل وہ کہاں مصر کے بازار میں ہے

شاہوں کے شاہ ہیں سرکارﷺ مدینے والے

جذبۂ عشقِ محمدﷺ در و دیوار میں ہے

آپﷺ آئے تو اندھیروں کے مقدر جاگے

چاند سورج سی ضیا آپؐ کے رخسار میں ہے

Thursday, 30 December 2021

دسمبر جا رہے ہو کیا بتاؤ جا رہے ہو کیا

 دسمبر جا رہے ہو کیا

بتاؤ جا رہے ہو کیا

سبھی سے اب جدا ہو کر

ہمیں خدا حافظ کہہ کر

کوئی سورج نیا لینے

امیدوں کی ضیا لینے

Tuesday, 28 December 2021

روٹھے ہیں اس قدر کہ منایا نہ جائے گا

 روٹھے ہیں اس قدر کہ منایا نہ جائے گا

آئی ہے نیند یوں کہ جگایا نہ جائے گا

ہے کون سا دیار؟ جہاں آپ جا بسے

اور کہہ گئے کہ لوٹ کے آیا نہ جائے گا

روئیں گے ہم بھی جائیے ہر روز ہر گھڑی

اب آپ سے تو چُپ بھی کرایا نہ جائے گا

Sunday, 26 December 2021

میں پیار کا نغمہ ہوں محبت کی غزل ہوں

 میں تاج محل ہوں


میں پیار کا نغمہ ہوں محبت کی غزل ہوں

قائم ہے مِری شان کہ میں تاج محل ہوں


جمنا کے کنارے پہ میں صدیوں سے کھڑا ہوں

میں وقت کی انگلی میں نگینے سا جڑا ہوں

میں چاندنی راتوں میں کِھلا ایک کنول ہوں

قائم ہے مِری شان کہ میں تاج محل ہوں

Wednesday, 27 October 2021

جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا

 جب بہہ چلا تو قطرہ سمندر کا ہو گیا

آنکھوں میں ٹھہرا اشک تو پتھر کا ہو گیا

پوجا اسے تو اس کو لگا دیوتا ہوں میں

پھر رنگ دوسرا ہی ستمگر کا ہو گیا

اس نے ہر ایک بات کہی یوں تراش کر

جیسے اثر زبان میں خنجر کا ہو گیا

Sunday, 24 October 2021

غموں کے بوجھ سے بکھرا پڑا سا لگتا ہے

 غموں کے بوجھ سے بکھرا پڑا سا لگتا ہے

اے زندگی! تِرا چہرہ بجھا سا لگتا ہے

بکھیرتی ہوں تبسم تو لوگ کہتے ہیں

تمہاری آنکھوں میں آنسو رُکا سا لگتا ہے

جگر پے چوٹ لگے مدتیں ہوئی ہوں گی

مگر یہ زخم ابھی تک ہرا سا لگتا ہے