عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل کو میرے جو سکوں آپؐ کے دربار میں ہے
لطف حاصل وہ کہاں مصر کے بازار میں ہے
شاہوں کے شاہ ہیں سرکارﷺ مدینے والے
جذبۂ عشقِ محمدﷺ در و دیوار میں ہے
آپﷺ آئے تو اندھیروں کے مقدر جاگے
چاند سورج سی ضیا آپؐ کے رخسار میں ہے
میرے آقاﷺ لو خبر میری پریشاں ہوں بہت
آج الجھی ہوئی کشتی مِری مجدھار میں ہے
آرزو ہے کہ میں دربارِ مدینہ دیکھوں
منتظر وقت فقط آپﷺ کے اقرار میں ہے
ہر سُو گھنگھور اندھیرا تھا اے عطیہ پہلے
روشنی آپﷺ کی آمد سے ہی سنسار میں ہے
عطیہ نور
No comments:
Post a Comment