Friday, 4 March 2022

اک زخم بے رفو ہے مجھے اب پتہ چلا

 اک زخمِ بے رفو ہے مجھے اب پتہ چلا

اے زندگی! یہ تُو ہے مجھے اب پتہ چلا

میں جس سے مانگتا رہا پانی تمام عمر

تصویرِآبجو ہے، مجھے اب پتہ چلا

پہلے میں رنگِ گُل کو سمجھتا تھا رنگِ گُل

یہ بھی مِرا لہو ہے مجھے اب پتہ چلا

بے کار کی دوائیاں لیتا رہا ہوں میں

میرا علاج تُو ہے مجھے اب پتہ چلا

میں تو سمجھ رہا تھا تجھے کوئی اجنبی

تُو میری آرزو ہے مجھے اب پتہ چلا

ہر شاخ پر کھُلا ہوا ہے ایک مے کدہ

ہر غنچہ اک سبُو ہے مجھے اب پتہ چلا

اب لینے آ گیا ہے سکوتِ فنا مجھے

تُو کتنی خوش گلو ہے مجھے اب پتہ چلا

نقش و نگارِ نغمۂ ہستی کی ابتداء

بس اک صدائے ہُو ہے مجھے اب پتہ چلا

جس نے شجر حجر سے کیا آدمی مجھے

یہ وحشت نمو ہے مجھے اب پتہ چلا

ارمان! ہو چکا ہوں میں صحرا جدائی میں

سانسیں نہیں یہ لُو ہے مجھے اب پتہ چلا


علی ارمان

No comments:

Post a Comment