ساحل پہ لائی، اور سفینے ڈبو دئیے
یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دئیے
اہل چمن نے جشن بہاراں کے نام سے
وہ داستاں سنائی کہ دامن بھگو دئیے
ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
دل میں کسی کا نام لیا، اور رو دئیے
ساحل پہ لائی، اور سفینے ڈبو دئیے
یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دئیے
اہل چمن نے جشن بہاراں کے نام سے
وہ داستاں سنائی کہ دامن بھگو دئیے
ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
دل میں کسی کا نام لیا، اور رو دئیے
ہر شے تجھی کو سامنے لائے تو کیا کروں
ہر شے میں تو ہی تو نظر آئے تو کیا کروں
تھم تھم کے آنکھ اشک بہائے تو کیا کروں
رہ رہ کے تیری یاد ستائے تو کیا کروں
یہ تو بتاتے جاؤ اگر جا رہے ہو تم
مجھ کو تمہاری یاد ستائے تو کیا کروں
آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے
مدتوں بعد تِری راہ گزر آئی ہے
زندگی کا کوئی احساس ہی باقی نہ رہا
زندگی لے کے مجھے آج کدھر آئی ہے
آپ دیکھیں تو ذرا خونِ تمنا کی بہار
کتنی سرخی مِری آنکھوں میں اتر آئی ہے
باخدا اب تو مجھے کوئی تمنا ہی نہیں
پھر یہ کیا بات ہے یہ دل کہیں لگتا ہی نہیں
صرف چہرہ کی اداسی سے بھر آئے آنسو
دل کا عالم تو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں
وہ کرم کرتے ہیں یا ہم پہ ستم کرتے ہیں
اس نظر سے انہیں ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں
ترے اہل درد کے روز و شب اسی کشمکش میں گزر گئے
کبھی غم میں ڈوب کے رہ گئے کبھی ڈوبتے ہی ابھر گئے
یہ مقام عشق ہے کون سا نہ شکایتیں ہیں نہ شکریہ
جو ترے ستم پہ نثار تھے وہ ترے کرم سے بھی ڈر گئے
سر راہ دیر و حرم کہیں جو ملے بھی ہوں تو عجب نہیں
ہمیں کیا خبر تری جستجو میں کہاں کہاں سے گزر گئے