Showing posts with label شمیم جے پوری. Show all posts
Showing posts with label شمیم جے پوری. Show all posts

Tuesday, 23 August 2022

ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دئیے

 ساحل پہ لائی، اور سفینے ڈبو دئیے

یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دئیے

اہل چمن نے جشن بہاراں کے نام سے

وہ داستاں سنائی کہ دامن بھگو دئیے

ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ

دل میں کسی کا نام لیا، اور رو دئیے

Friday, 29 April 2022

ہر شے تجھی کو سامنے لائے تو کیا کروں

 ہر شے تجھی کو سامنے لائے تو کیا کروں

ہر شے میں تو ہی تو نظر آئے تو کیا کروں

تھم تھم کے آنکھ اشک بہائے تو کیا کروں

رہ رہ کے تیری یاد ستائے تو کیا کروں

یہ تو بتاتے جاؤ اگر جا رہے ہو تم

مجھ کو تمہاری یاد ستائے تو کیا کروں

Tuesday, 19 October 2021

آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے

 آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے

مدتوں بعد تِری راہ گزر آئی ہے

زندگی کا کوئی احساس ہی باقی نہ رہا

زندگی لے کے مجھے آج کدھر آئی ہے

آپ دیکھیں تو ذرا خونِ تمنا کی بہار

کتنی سرخی مِری آنکھوں میں اتر آئی ہے

Thursday, 21 January 2021

باخدا اب تو مجھے کوئی تمنا ہی نہیں

 باخدا اب تو مجھے کوئی تمنا ہی نہیں

پھر یہ کیا بات ہے یہ دل کہیں لگتا ہی نہیں

صرف چہرہ کی اداسی سے بھر آئے آنسو

دل کا عالم تو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں

وہ کرم کرتے ہیں یا ہم پہ ستم کرتے ہیں

اس نظر سے انہیں ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں

Sunday, 20 December 2020

ترے اہل درد کے روز و شب اسی کشمکش میں گزر گئے

 ترے اہل درد کے روز و شب اسی کشمکش میں گزر گئے

کبھی غم میں ڈوب کے رہ گئے کبھی ڈوبتے ہی ابھر گئے

یہ مقام عشق ہے کون سا نہ شکایتیں ہیں نہ شکریہ

جو ترے ستم پہ نثار تھے وہ ترے کرم سے بھی ڈر گئے

سر راہ دیر و حرم کہیں جو ملے بھی ہوں تو عجب نہیں

ہمیں کیا خبر تری جستجو میں کہاں کہاں سے گزر گئے

Wednesday, 7 December 2016

دل لگانے کی کسی سے وہ سزا پائی کہ بس

دل لگانے کی کسی سے وہ سزا پائی کہ بس
ایسی ایسی عشق میں اس دل پہ بن آئی کہ بس
کیا خبر کعبہ تھا بت خانہ تھا یا تھا کوئے دوست
چلتے، چلتے، دفعتاً مجھ کو نِدا آئی کہ بس
اب تو سب کہنے لگے 'دیوانہ دیوانہ' مجھے
اور ہے منظور تم کو اپنی رسوائی کہ بس

سخت ہے عشق کی رہ گزر

سخت ہے عشق کی رہگزر
چلنے والے! ذرا دیکھ کر
تجھ سے بڑھ کر حسیں کون ہے
کس کو دیکھوں تجھے دیکھ کر
راہزن،۔ رہنما،۔ ہمسفر
الحفیظ،۔ الاماں،۔ الحذر

پیتے ہیں اور تیرے کرم پر نگاہ ہے

پیتے ہیں اور تیرے کرم پر نگاہ ہے
کس درجہ مۓ کشوں کو شعورِ گناہ ہے
ساقی ہے جام و بادہ ہے اور ابرِ سیاہ ہے
ایسے میں اب گناہ نہ کرنا گناہ ہے
توبہ کے بعد سوچ رہا ہوں یہ بار بار
پینا گناہ تھا کہ نہ پینا گناہ ہے

بخدا اب تو مجھے کوئی تمنا ہی نہیں

بخدا اب تو مجھے کوئی تمنا ہی نہیں 
پھر یہ کیا بات ہے یہ دل کہیں لگتا ہی نہیں 
صرف چہرے کی اداسی سے بھر آئے آنسو 
دل کا عالم تو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں 
وہ کرم کرتے ہیں یا ہم پہ ستم کرتے ہیں 
اس نظر سے کبھی ہم نے انہیں دیکھا ہی نہیں 

کعبے سے بت کدے سے کبھی بزم یار سے

کعبے سے بتکدے سے کبھی بزمِ یار سے
آواز دے رہا ہوں تجھے ہر مقام سے
نا آشنا ہے آج وہی میرے نام سے
دنیا پکارتی تھی جنہیں میرے نام سے
اف یہ شبِ فِراق کے ماروں کی بےخودی
خود ہی بجھا دیا ہے چراغوں کو شام سے

یوں برہمی کا ہے انداز التفات کے بعد

یوں برہمی کا ہے انداز التفات کے بعد
کہ جیسے موت کا پیغام ہو حیات کے بعد
یہ کفر و دِیں کا فسانہ، یہ ذکرِ دَیر و حرم
عزیز ہیں، مگر ان کی توجہات کے بعد
دبائے اشکِ الم، دل میں پاسِ ضبطِ فغاں
جو ہم ہنسے بھی تو کتنی تکلفات کے بعد

Sunday, 15 November 2015

رحم اے غم جاناں بات آ گئی یاں تک

رحم اے غمِ جاناں بات آ گئی یاں تک
دستِ گردشِ دوراں اور مِرے گریباں تک
کون سر بکف ہو گا، جشنِ دار کیا ہو گا
ذوقِ سر فروشی ہے ایک دشمنِ جاں تک
ہم صفیر پھر کوئی حادثہ ہوا شاید
اک عجب اداسی ہے گلستاں سے زنداں تھ

ہمارے ساتھ یہ ہمدم تمام عمر رہا

ہمارے ساتھ یہ ہمدم تمام عمر رہا
کوئی رہا نہ رہا، غم تمام عمر رہا
وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملی تھی ان سے نظر
اس ایک لمحے کا عالم تمام عمر رہا
نجانے کون سی لغزش ہوئی جوانی میں
نظام زیست کا برہم تمام عمر رہا

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں
کہ موت کا سا مزا آ رہا ہے جینے میں
نجانے کیوں یہ تلاطم ڈبو نہیں دیتا
کہ ناخدا بھی نہیں اب مِرے سفینے میں
قدم قدم پہ بچایا ہے ٹھوکروں سے مگر
خراش آ ہی گئی دل کے آبگینے میں

یہ اہل دل کے جو چہروں پہ نور ہوتا ہے

یہ اہلِ دل کے جو چہروں پہ نور ہوتا ہے
کوئی ملال، کوئی غم ضرور ہوتا ہے
جو بار بار یہ دل ناصبور ہوتا ہے
ادھر سے کوئی اشارہ ضرور ہوتا ہے
تمام عمر کا صبر و قرار اس پہ نثار
وہ اس طرح جو تِرے حضور ہوتا ہے

ہزار اہلِ جنوں حلقہ رسن میں رہے

ہزار اہلِ جنوں حلقۂ رسن میں رہے
مگر خیالِ پرستارئ چمن میں رہے
تِرے خیال کے احساں رہیں گے یاد ہمیں
جس انجمن میں رہے تیری انجمن میں رہے
گیا نہ قیدِ قفس میں بھی بانکپن اپنا
اسی طرح سے رہے جس طرح چمن میں رہے