Sunday, 15 November 2015

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں
کہ موت کا سا مزا آ رہا ہے جینے میں
نجانے کیوں یہ تلاطم ڈبو نہیں دیتا
کہ ناخدا بھی نہیں اب مِرے سفینے میں
قدم قدم پہ بچایا ہے ٹھوکروں سے مگر
خراش آ ہی گئی دل کے آبگینے میں
مہک رہی ہے صبا صبح سے نجانے کیوں
نہا کے آئی ہے شاید تِرے پسینے میں
شمیمؔ ساحل و کشتی سے کچھ امید نہ رکھ
کوئی وقار نہیں اس طرح سے جینے میں

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment