فدائے من، فدائے من کی گونج ہے پکار میں
کہ انقلاب ہے نہاں مرے لہو کی دھار میں
چراغ جل اٹھے ہیں سب، ابھی کٹی ورید شب
یہ قوم تھک چکی ہے اب، سحر کے انتظار میں
اے بلبلِ سخن سرا، چمن کو چھوڑ ادھر کو آ
کہ سرخیاں ہی سرخیاں ہیں دشت کارزار میں
فدائے من، فدائے من کی گونج ہے پکار میں
کہ انقلاب ہے نہاں مرے لہو کی دھار میں
چراغ جل اٹھے ہیں سب، ابھی کٹی ورید شب
یہ قوم تھک چکی ہے اب، سحر کے انتظار میں
اے بلبلِ سخن سرا، چمن کو چھوڑ ادھر کو آ
کہ سرخیاں ہی سرخیاں ہیں دشت کارزار میں
اسے فکر کیا تھی وہ اپنی ہی دھن میں یہ دنیا بچانے کی ضد پر اڑا تھا
ہمارے بچھڑنے سے کچھ پہلے تک وہ کسی بھی قیامت کو کب مانتا تھا
عجب چھب تھی اس کی عجب تھی فقیری میں ایسے شہنشاہ کو دیتا بھی کیا
جو کاسے کو تاجِ سکندر سمجھتا،۔ جو خلعت کو دستِ طلب مانتا تھا
سبھی ہنستے ہم پر اسے خوف آتا،۔ سو مجھ پر وہی پہلا پتھر اٹھاتا
وہ مجھ کو فقط ایک پاگل سمجھتا میں جس شخص کو اپنا سب مانتا تھا
پھول بھی لاؤں گا میں جنگ میں تلوار کے ساتھ
ایک شاعر بھی ہوں لشکر کے کماندار کے ساتھ
تختۂ دار بھی ہے، کوئی طرفدار بھی ہے
دیکھیے اب کہ جو ہوتا ہے گرفتار کے ساتھ
اس کے بوسے مجھے تھکنے ہی نہیں دیتے ہیں
کوئی خوش رہتی ہے مجھ ایسے بھی بیکار کے ساتھ
جنگ میں دونوں اتنے قریب آ گئے سانس کی ڈور سانسوں سے کٹنے لگی
ایک پردہ نشیں آنکھ کی تیغ سے میرے لشکر کے لشکر الٹنے لگی
آنکھ اٹھی کہ جیسے قیامت اٹھی، جھک گئی تو سحاب آ جھکے دشت پر
رن میں تیز خنجر کھنکھنے لگے، زرد پیڑوں پہ بجلی جھپٹنے لگی
وہ چلی تو چلا کاروبار ختن،۔ سانس لینے لگے لالہ و یاسمن
اس ہرن نے چمن میں بھری چوکڑی اور پھولوں میں خیرات بٹنے لگی
میں مست الست کا بھید ہوں میں مستوں میں نروان
میں پہلا نقطہ ب کا ہوں میں الف کا ہوں استھان
میرے رخ پر گونگھٹ میم کا میں آپ ہوں جیم جمال
میرا ماتھا فقر کا جھومر ہے میں ولیوں کا پردھان
میرے من میں شور حقیقت کا میرے لب پر چپ کی سکھ
میرے جسم کے ٹکڑے ٹوٹ کے کریں ہُو ہُو کی گردان
آنکھوں سے پی کے بہکے ہوئے ہیں شدید مست
کس کس کو ہونا ہے ابھی تھوڑا مزید مست
اے حافظ و اے رازی و رومی سنو ذرا
آؤ کہ مل کے کرتے ہیں گفت و شنید مست
منصور ہوں میں بات سے اور کام سے حسینؑ
سر مست میری بات ہے میں سر برید مست
قہقہے بزم میں کھلکھلا کر لگے، بام پر زندگی رقص کرتی رہی
دل کے اعراف میں، میرے اطراف میں ایک گہری کمی رقص کرتی رہی
صرف میں ہی نہیں تھا جو ہر بزم میں داد پاتا رہا، جھلملاتا رہا
ایک گمبھیر چپ تھی مِری ذات میں، شعر کہتی رہی، رقص کرتی رہی
عشق کی لے پہ اکتارہ بجنے لگا، جسم بن میں الاؤ سلگنے لگا
چند آہوئے وحشت بدکنے لگے اور اک مورنی رقص کرتی رہی
بتا نا دوست کیا ہوں میں؟
کئی زبانوں کے رنگوں پر مشتمل نظم
تمہارا ترجماں ہوں کیا؟ تمہارا رازداں ہوں کیا؟
نشانِ بے نشاں ہوں کیا؟ تمہاری داستاں ہوں کیا؟
جہاں تو ہے وہاں ہوں کیا؟ مکینِ لا مکاں ہوں کیا؟
ترے گھر کا پتا ہوں میں
سانولی
حکم آیا کہ نظمیں بھی لکھا کرو
سرخ لفظوں کی مانگیں سجایا کرو
کچھ ہماری نذر بھی کرو حرفِ جاں
کچھ ہم پہ چڑھاوے چڑھایا کرو
سانولی
خواب زرد آنکھوں کے خواب
عین زادی یہ خواب
زرد آنکھوں کے خواب
قرب کے دور میں اپنے مولود خواب
عقل کی سرخ ریشم میں لپٹے ہوئے
ایک بند طاقچے میں جنہیں ڈال کر
بیلیا! دل میں یاد رچی ہے، ماتھے پہ یکتائی ہے
دل میں وِرد چلا ہے ہُو کا وِرد بھی جو مولائی ہے
ہجر کی چوٹ سے زیادہ گہرا اس ہجرت کا گھاؤ ہے
ایک تو صدیوں بوڑھا گاؤں، اوپر سے آبائی ہے
عشق کی تیز اگن میں جلتا نہر کنارے بیٹھا چاند
جس کے ماتھے پر لکھا ہے؛ حسن بڑا ہرجائی ہے
دائرے کی طرح گھومتا وقت ہوں
کُن سے پہلے تو ٹھہرا ہوا وقت ہوں
چھوڑ جا اس سے پہلے تجھے آ لگوں
دوستا! یاد رکھ میں بُرا وقت ہوں
تم ہوا کے قبیلے سے ہو پر سنو
میں چراغوں کے بیدار کا وقت ہوں
سن لبِ دریا سے بچے کی صدا آتی ہے
یار اس پانی سے پیاسے کی صدا آتی ہے
پہلے آتا ہے رگوں میں کسی کا پاک لہو
دل میں پھر حیدریؑ نعرے کی صدا آتی ہے
کتنی دلدوز ہے، بس خوف ہے دل چیر نہ دے
رونے والوں میں جو ہنسنے کی صدا آتی ہے
حیران ہوں کیا خاک کی تقدیر بنے گی
وہ چاک گھمائے گا تو تعمیر بنے گی
چل عشق کو مت مان ادھر دیکھ ذرا سا
میں شعر پڑھوں گا، تِری تصویر بنے گی
ہم خواب میں پہلے بھی جدا ہو چکے ہیں دوست
میں جان چکا تھا، یہی تعبیر بنے گی
کبھی آنسو، کبھی جگنو، کبھی تارے پھینکے
آنکھ سے کہہ دو کہ خوابوں کو کنارے پھینکے
اس نے کاندھے سے مِرے لگ کے کوئی بات کہی
چاند نے رات کو جھیلوں میں شرارے پھینکے
اس نے چُوما تو گلابوں پہ گلال آتا گیا
پھول نے پھول کے ہونٹوں پہ انگارے پھینکے