Showing posts with label امیر سخن. Show all posts
Showing posts with label امیر سخن. Show all posts

Friday, 10 May 2024

فدائے من فدائے من کی گونج ہے پکار میں

 فدائے من، فدائے من کی گونج ہے پکار میں

کہ انقلاب ہے نہاں مرے لہو کی دھار میں

چراغ جل اٹھے ہیں سب، ابھی کٹی ورید شب

یہ قوم تھک چکی ہے اب، سحر کے انتظار میں

اے بلبلِ سخن سرا، چمن کو چھوڑ ادھر کو آ

کہ سرخیاں ہی سرخیاں ہیں دشت کارزار میں

Monday, 13 March 2023

اسے فکر کیا تھی وہ اپنی ہی دھن میں

 اسے فکر کیا تھی وہ اپنی ہی دھن میں یہ دنیا بچانے کی ضد پر اڑا تھا

ہمارے بچھڑنے سے کچھ پہلے تک وہ کسی بھی قیامت کو کب مانتا تھا

عجب چھب تھی اس کی عجب تھی فقیری میں ایسے شہنشاہ کو دیتا بھی کیا

جو کاسے کو تاجِ سکندر سمجھتا،۔ جو خلعت کو دستِ طلب مانتا تھا

سبھی ہنستے ہم پر اسے خوف آتا،۔ سو مجھ پر وہی پہلا پتھر اٹھاتا

وہ مجھ کو فقط ایک پاگل سمجھتا میں جس شخص کو اپنا سب مانتا تھا 

Monday, 6 March 2023

پھول بھی لاؤں گا میں جنگ میں تلوار کے ساتھ

 پھول بھی لاؤں گا میں جنگ میں تلوار کے ساتھ

ایک شاعر بھی ہوں لشکر کے کماندار کے ساتھ

تختۂ دار بھی ہے، کوئی طرفدار بھی ہے

دیکھیے اب کہ جو ہوتا ہے گرفتار کے ساتھ

اس کے بوسے مجھے تھکنے ہی نہیں دیتے ہیں

کوئی خوش رہتی ہے مجھ ایسے بھی بیکار کے ساتھ

Thursday, 16 February 2023

جنگ میں دونوں اتنے قریب آ گئے

 جنگ میں دونوں اتنے قریب آ گئے سانس کی ڈور سانسوں سے کٹنے لگی

ایک پردہ نشیں آنکھ کی تیغ سے میرے لشکر کے لشکر الٹنے لگی

آنکھ اٹھی کہ جیسے قیامت اٹھی، جھک گئی تو سحاب آ جھکے دشت پر

رن میں تیز خنجر کھنکھنے لگے، زرد پیڑوں پہ بجلی جھپٹنے لگی

وہ چلی تو چلا کاروبار ختن،۔ سانس لینے لگے لالہ و یاسمن

اس ہرن نے چمن میں بھری چوکڑی اور پھولوں میں خیرات بٹنے لگی

Sunday, 13 November 2022

میں مست الست کا بھید ہوں میں مستوں میں نروان

 میں مست الست کا بھید ہوں میں مستوں میں نروان 

میں پہلا نقطہ ب کا ہوں میں الف کا ہوں استھان 

میرے رخ پر گونگھٹ میم کا میں آپ ہوں جیم جمال

میرا ماتھا فقر کا جھومر ہے میں ولیوں کا پردھان  

میرے من میں شور حقیقت کا میرے لب پر چپ کی سکھ

میرے جسم کے ٹکڑے ٹوٹ کے کریں ہُو ہُو کی گردان

Monday, 24 October 2022

آنکھوں سے پی کے بہکے ہوئے ہیں شدید مست

آنکھوں سے پی کے بہکے ہوئے ہیں شدید مست

کس کس کو ہونا ہے ابھی تھوڑا مزید مست

اے حافظ و اے رازی و رومی سنو ذرا

آؤ کہ مل کے کرتے ہیں گفت و شنید مست

منصور ہوں میں بات سے اور کام سے حسینؑ

سر مست میری بات ہے میں سر برید مست

Thursday, 13 October 2022

قہقہے بزم میں کھلکھلا کر لگے

 قہقہے بزم میں کھلکھلا کر لگے، بام پر زندگی رقص کرتی رہی

دل کے اعراف میں، میرے اطراف میں ایک گہری کمی رقص کرتی رہی

صرف میں ہی نہیں تھا جو ہر بزم میں داد پاتا رہا، جھلملاتا رہا

ایک گمبھیر چپ تھی مِری ذات میں، شعر کہتی رہی، رقص کرتی رہی

عشق کی لے پہ اکتارہ بجنے لگا، جسم بن میں الاؤ سلگنے لگا

چند آہوئے وحشت بدکنے لگے اور اک مورنی رقص کرتی رہی

Sunday, 17 July 2022

بتا نا دوست کیا ہوں میں

 بتا نا دوست کیا ہوں میں؟

کئی زبانوں کے رنگوں پر مشتمل نظم


تمہارا ترجماں ہوں کیا؟ تمہارا رازداں ہوں کیا؟

نشانِ بے نشاں ہوں کیا؟ تمہاری داستاں ہوں کیا؟

جہاں تو ہے وہاں ہوں کیا؟ مکینِ لا مکاں ہوں کیا؟

ترے گھر کا پتا ہوں میں

Saturday, 19 March 2022

سانولی حکم آیا کہ نظمیں بھی لکھا کرو

 سانولی


حکم آیا کہ نظمیں بھی لکھا کرو

سرخ لفظوں کی مانگیں سجایا کرو

کچھ ہماری نذر بھی کرو حرفِ جاں 

کچھ ہم پہ چڑھاوے چڑھایا کرو

سانولی

Wednesday, 9 February 2022

عین زادی یہ خواب زرد آنکھوں کے خواب

 خواب زرد آنکھوں کے خواب


عین زادی یہ خواب

زرد آنکھوں کے خواب

قرب کے دور میں اپنے مولود خواب

عقل کی سرخ ریشم میں لپٹے ہوئے

ایک بند طاقچے میں جنہیں ڈال کر

Saturday, 21 August 2021

بیلیا دل میں یاد رچی ہے، ماتھے پہ یکتائی ہے

 بیلیا! دل میں یاد رچی ہے، ماتھے پہ یکتائی ہے

دل میں وِرد چلا ہے ہُو کا وِرد بھی جو مولائی ہے

ہجر کی چوٹ سے زیادہ گہرا اس ہجرت کا گھاؤ ہے

ایک تو صدیوں بوڑھا گاؤں، اوپر سے آبائی ہے

عشق کی تیز اگن میں جلتا نہر کنارے بیٹھا چاند

جس کے ماتھے پر لکھا ہے؛ حسن بڑا ہرجائی ہے

Friday, 13 August 2021

دائرے کی طرح گھومتا وقت ہوں

 دائرے کی طرح گھومتا وقت ہوں

کُن سے پہلے تو ٹھہرا ہوا وقت ہوں

چھوڑ جا اس سے پہلے تجھے آ لگوں

دوستا! یاد رکھ میں بُرا وقت ہوں

تم ہوا کے قبیلے سے ہو پر سنو

میں چراغوں کے بیدار کا وقت ہوں

Friday, 30 July 2021

سن لب دریا سے بچے کی صدا آتی ہے

 سن لبِ دریا سے بچے کی صدا آتی ہے

یار اس پانی سے پیاسے کی صدا آتی ہے

پہلے آتا ہے رگوں میں کسی کا پاک لہو

دل میں پھر حیدریؑ نعرے کی صدا آتی ہے

کتنی دلدوز ہے، بس خوف ہے دل چیر نہ دے

رونے والوں میں جو ہنسنے کی صدا آتی ہے

Friday, 2 July 2021

حیران ہوں کیا خاک کی تقدیر بنے گی

 حیران ہوں کیا خاک کی تقدیر بنے گی

وہ چاک گھمائے گا تو تعمیر بنے گی

چل عشق کو مت مان ادھر دیکھ ذرا سا

میں شعر پڑھوں گا، تِری تصویر بنے گی

ہم خواب میں پہلے بھی جدا ہو چکے ہیں دوست

میں جان چکا تھا، یہی تعبیر بنے گی

Wednesday, 10 March 2021

کبھی آنسو کبھی جگنو کبھی تارے پھینکے

 کبھی آنسو، کبھی جگنو، کبھی تارے پھینکے

آنکھ سے کہہ دو کہ خوابوں کو کنارے پھینکے

اس نے کاندھے سے مِرے لگ کے کوئی بات کہی

چاند نے رات کو جھیلوں میں شرارے پھینکے

اس نے چُوما تو گلابوں پہ گلال آتا گیا

پھول نے پھول کے ہونٹوں پہ انگارے پھینکے