قہقہے بزم میں کھلکھلا کر لگے، بام پر زندگی رقص کرتی رہی
دل کے اعراف میں، میرے اطراف میں ایک گہری کمی رقص کرتی رہی
صرف میں ہی نہیں تھا جو ہر بزم میں داد پاتا رہا، جھلملاتا رہا
ایک گمبھیر چپ تھی مِری ذات میں، شعر کہتی رہی، رقص کرتی رہی
عشق کی لے پہ اکتارہ بجنے لگا، جسم بن میں الاؤ سلگنے لگا
چند آہوئے وحشت بدکنے لگے اور اک مورنی رقص کرتی رہی
صوفی ہونٹوں پہ جبران کی نثر تھی، نیلی آنکھوں میں نیرودا کی شاعری
اس کو دیکھا تو کچھ دیر تک جسم میں جھرجھری سی کوئی رقص کرتی رہی
مجھ پہ اور روح کے زرد فانوس پر، ابرِ حیرت برستا رہا رات بھر
میں مراقب تھا اور عالمِ غیب میں اک برہنہ پری رقص کرتی رہی
رات ڈھلتے ہوئے تیرہ ہوتی گئی، مورتی اور بھی خیرہ ہوتی گئی
رفتہ رفتہ نظر باز غش کھا گئے، پھر بھی وہ سانولی رقص کرتی رہی
سرخ گالوں میں پڑتے بھنور کی قسم، وہ ہنر ناخدا میں خداداد تھا
برف کے پانیوں میں بڑی دور تک کشتیوں کی ہنسی رقص کرتی رہی
لڑتے لڑتے جری لڑکھڑایا ہی تھا اور ماں کا کلیجہ ادھڑنے لگا
چیخ سنتا رہا میں امیر سخن اور غزل ماتمی رقص کرتی رہی
امیر سخن
No comments:
Post a Comment