Thursday, 13 October 2022

تری بیٹیوں کی صفوں کا میں حامی بنوں گا

 تیسری بیٹی


میرے پُرکھوں نے بھی اور اہلِ محبت نے بھی

مجھ گھنے پیڑ کو تیسری شاخ کِھلنے پہ ایذا ہی دی

جیسے بدصورتی کی نئی بیل 

پھولوں کے پہلو سے اُگنے لگی ہو

مجھے خشک لوگوں کے پِھیکے رویے

زبانوں سے مارے ہوئے تازیانے

عرب کے زمانے، ستانے لگے تھے

مِری شاخ کی تین چِڑیاں چہکنے لگیں تو

کئی سانپ تازہ گُلوں کی شباہت میں وارد ہوئے تھے

یہ محرومیوں کے ستائے ہوئے چِیل کوّے

مِری ٹہنیوں پہ نجاست کے فُضلے گِرانے لگے تھے

یہ تخریب کے سارے چُوہے زمینی جڑوں کو ہلانے لگے تھے

کوئی پِیر نر کے نئے بیج کی پوٹلی لے کے آیا

مسیحاؤں نے شعبدے بھی دکھائے

فقیروں نے بھی امتیازی دعاؤں کے رَٹوں سے 

دستِ طلب کو کشادہ کِیا ہے

حقارت کے تیشوں کی ضربِ مسلسل سے 

آنکھوں کے پتھر بھی رونے لگے تھے

مِرے بازوؤں کے حسابی کہاروں نے 

ڈولی اٹھائی بدن کی

تِڑکتی ہوئی ایک دیوار کے دوزخی سائے میں جا گِرایا

سدا بے ثمر پیڑ کی ہر وراثت میں جیسے کوئی واشنا ہی نہیں

بخت جاگا تو چشمِ تصور میں آنے لگی 

وہ محمدﷺ کی بیٹی

مجھے خشک صحراؤں سے روشنی کے سمندر دکھائے

مِری ایڑھیوں سے لگا پھوٹنے اِک طراوت کا چشمہ

مِرے خوف کی ساری سہمی ہوئی تتلیاں اُڑ گئیں

جب مِرا پیڑ گِرنے لگے تو اے بیٹی

تیرے در کی چوکھٹ پہ پردہ بنوں

اور کُنڈی کی ٹھک ٹھک سے 

خوشیوں کی آواز بن کے گونجا کروں

تم مِری بند آنکھوں پہ اپنی دعاؤں کے سِکے لگانا

کڑے حشر میں شور کرتے ہوئے پانیوں میں 

کسی راہبر سے مِلانا

کہ میں کُفر کی دلدلوں سے اُبھر کر خدا سے کہوں گا

کہ تیرے جہاں میں کوئی بنتِ حوّا کا حامی نہیں ہے

مجھے پھر اتارو زمیں پہ 

میں گروی بھی کیا رکھ سکوں گا

زمانے کے لہجوں کی ساری صلیبں اٹھا کے بدن پہ

اذیت کی سولی چڑھوں گا

تِری بیٹیوں کی صفوں کا میں حامی بنوں گا


عرفان شہود

No comments:

Post a Comment