Showing posts with label شفا گوالیاری. Show all posts
Showing posts with label شفا گوالیاری. Show all posts

Thursday, 13 October 2022

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لیے ہوئے

 کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لیے ہوئے

دامن میں اپنے میرا گریباں لیے ہوئے

ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لیے ہوئے

شامِ خزاں ہے صبحِ بہاراں لیے ہوئے

سجدہ ہے میرا ذوقِ فراواں لیے ہوئے

اٹھے گا اب تو سر درِ جاناں لیے ہوئے

Thursday, 6 October 2022

یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا

 یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا

یہ ماہتاب نہیں تھا،۔ یہ آفتاب نہ تھا

نہ ہے وہ دور جو مجروحِ انقلاب نہ تھا

تمہارا حسن مِرے عشق کا جواب نہ تھا

یہ تھا حجابِ فریب اس کا یا فریبِ حجاب

کہ بے حجاب تھا وہ اور بے حجاب نہ تھا

Wednesday, 29 June 2022

جیے جا رہے ہیںلبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی

لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی

گلوں میں روح ستاروں میں روشنی نہ رہی

خدا شناسوں کی پہچان ہی کوئی نہ رہی

کہ سرکشی بھی با انداز سرکشی نہ رہی

فسانہ گردشِ دوراں کا نظم کر لیتے

مگر نگاہ میں ان کی وہ برہمی نہ رہی

Monday, 21 June 2021

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے

کیا خبر تھی، راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے

میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے

جان کھو کر غم میں جانِ داستاں ہو جائیں گے

یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے

Friday, 20 November 2020

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

دردِ نہاں کو چارۂ دردِ نہاں بنا

امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا

یعنی نئی زمیں،۔ نیا آسماں بنا

مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل

کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا