کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لیے ہوئے
دامن میں اپنے میرا گریباں لیے ہوئے
ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لیے ہوئے
شامِ خزاں ہے صبحِ بہاراں لیے ہوئے
سجدہ ہے میرا ذوقِ فراواں لیے ہوئے
اٹھے گا اب تو سر درِ جاناں لیے ہوئے
کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لیے ہوئے
دامن میں اپنے میرا گریباں لیے ہوئے
ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لیے ہوئے
شامِ خزاں ہے صبحِ بہاراں لیے ہوئے
سجدہ ہے میرا ذوقِ فراواں لیے ہوئے
اٹھے گا اب تو سر درِ جاناں لیے ہوئے
یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا
یہ ماہتاب نہیں تھا،۔ یہ آفتاب نہ تھا
نہ ہے وہ دور جو مجروحِ انقلاب نہ تھا
تمہارا حسن مِرے عشق کا جواب نہ تھا
یہ تھا حجابِ فریب اس کا یا فریبِ حجاب
کہ بے حجاب تھا وہ اور بے حجاب نہ تھا
لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی
گلوں میں روح ستاروں میں روشنی نہ رہی
خدا شناسوں کی پہچان ہی کوئی نہ رہی
کہ سرکشی بھی با انداز سرکشی نہ رہی
فسانہ گردشِ دوراں کا نظم کر لیتے
مگر نگاہ میں ان کی وہ برہمی نہ رہی
دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے
وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے
کیا خبر تھی، راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے
میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے
جان کھو کر غم میں جانِ داستاں ہو جائیں گے
یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے
غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا
دردِ نہاں کو چارۂ دردِ نہاں بنا
امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا
یعنی نئی زمیں،۔ نیا آسماں بنا
مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل
کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا