Monday, 21 June 2021

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے

کیا خبر تھی، راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے

میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے

جان کھو کر غم میں جانِ داستاں ہو جائیں گے

یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے

آسمان حشر حشر آسماں ہو جائیں گے

جب بہ تشریح جوانی وہ جواں ہو جائیں گے

بے خودی کے بندگی کے ذوق کے جذبات کے

ایک ہی سجدے میں سارے امتحاں ہو جائیں گے

اے غلط اندیش میرے آنسوؤں کو تو نہ چھیڑ

یہ زمیں پر گر گئے تو آسماں ہو جائیں گے

آج سنتے ہیں زمانے کی شفا! ہم داستاں

کل زمانے کے لیے خود داستاں ہو جائیں گے


شفا گوالیاری

No comments:

Post a Comment