دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے
وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے
کیا خبر تھی، راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے
میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے
جان کھو کر غم میں جانِ داستاں ہو جائیں گے
یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے
آسمان حشر حشر آسماں ہو جائیں گے
جب بہ تشریح جوانی وہ جواں ہو جائیں گے
بے خودی کے بندگی کے ذوق کے جذبات کے
ایک ہی سجدے میں سارے امتحاں ہو جائیں گے
اے غلط اندیش میرے آنسوؤں کو تو نہ چھیڑ
یہ زمیں پر گر گئے تو آسماں ہو جائیں گے
آج سنتے ہیں زمانے کی شفا! ہم داستاں
کل زمانے کے لیے خود داستاں ہو جائیں گے
شفا گوالیاری
No comments:
Post a Comment