دنیا کو ریشہ ریشہ اُدھیڑیں، رفُو کریں
آ بیٹھ تھوڑی دیر ذرا گفتگو کریں
جس کا وجود ہی نہ ہو دونوں جہان میں
اُس شئے کی آرزو ہی نہیں جستجو کریں
دنیا میں اک زمانے سے ہو تا رہا ہے جو
دنیا یہ چاہتی ہے وہی ہو بہ ہو کریں
ان کی یہ ضد کہ ایک تکلف بنا رہے
اپنی تڑپ کہ آپ کو تم، تم کو تو کریں
ان کی نظر میں آئے گا کس دن ہمارا غم
آخر ہم اپنے اشکوں کو کب تک لہو کریں
دل تھا کسی نے توڑ دیا کھیل کھیل میں
اتنی ذرا سی بات پہ کیا ہاؤ ہُو کریں
دل پھر بضد ہے پھر اسی کوچے میں جائیں ہم
پھر ایک بار وہ ہمیں بے آبرو کریں
راجیش ریڈی
No comments:
Post a Comment