Showing posts with label بسمل گیاوی. Show all posts
Showing posts with label بسمل گیاوی. Show all posts

Sunday, 28 June 2026

فصل گل میں بات ساقی کی اٹھا سکتے نہیں

 فصلِ گُل میں بات ساقی کی اُٹھا سکتے نہیں

ناصحا! ہم لفظ توبہ لب پہ لا سکتے نہیں

ہے بہت ممکن جفاؤں کو تِری ہم بھُول جائیں

یاد کو تیری مگر دل سے بھُلا سکتے نہیں

اشکِ پیہم سے نہیں ہونے کی کم دل کی جلن

اس بھڑکتی آگ کو آنسُو بُجھا سکتے نہیں

Monday, 24 March 2025

اس چمن میں آشیاں اپنا بنا سکتے نہیں

 اس چمن میں آشیاں اپنا بنا سکتے نہیں

کھول کر دل جس چمن چہچہا سکتے نہیں

خوف سے گلچیں کے غنچے ہیں چمن میں دم بخود

مسکرا سکتے ہیں، لیکن کھل کھلا سکتے نہیں

باغباں سے کر لیا صیّاد نے کچھ ساز باز

اہلِ گُلشن خیر اب اپنی منا سکتے نہیں

Monday, 14 October 2024

ہم شکوہ ہائے چرخ ستمگار کیا کریں

 ہم شکوہ ہائے چرخ ستمگار کیا کریں

فطرت ہو جس کی کج اسے ہموار کیا کریں

دل میں خیالِ عارضِ جاناں ہے جاگزیں

پھر ہم تصورِ گل و گلزار کیا کریں

دیتے ہیں جان جب وہ رقیبوں پہ رات دن

ہم جان دیں نہ اپنی تو ناچار کیا کریں

Saturday, 13 November 2021

خدا کرے کہ کسی کو کسی سے پیار نہ ہو

 خدا کرے کہ کسی کو کسی سے پیار نہ ہو

مِری طرح کوئی دنیا میں بے قرار نہ ہو

دلِ حزیں! نہ تڑپ، آنکھ اشکبار نہ ہو

ہمارا درد زمانے میں آشکار نہ ہو

اُسے دیوانہ بھلا کس طرح کہا جائے

جنوں کی راہ میں دامن جو تار تار نہ ہو