فصلِ گُل میں بات ساقی کی اُٹھا سکتے نہیں
ناصحا! ہم لفظ توبہ لب پہ لا سکتے نہیں
ہے بہت ممکن جفاؤں کو تِری ہم بھُول جائیں
یاد کو تیری مگر دل سے بھُلا سکتے نہیں
اشکِ پیہم سے نہیں ہونے کی کم دل کی جلن
اس بھڑکتی آگ کو آنسُو بُجھا سکتے نہیں
فصلِ گُل میں بات ساقی کی اُٹھا سکتے نہیں
ناصحا! ہم لفظ توبہ لب پہ لا سکتے نہیں
ہے بہت ممکن جفاؤں کو تِری ہم بھُول جائیں
یاد کو تیری مگر دل سے بھُلا سکتے نہیں
اشکِ پیہم سے نہیں ہونے کی کم دل کی جلن
اس بھڑکتی آگ کو آنسُو بُجھا سکتے نہیں
اس چمن میں آشیاں اپنا بنا سکتے نہیں
کھول کر دل جس چمن چہچہا سکتے نہیں
خوف سے گلچیں کے غنچے ہیں چمن میں دم بخود
مسکرا سکتے ہیں، لیکن کھل کھلا سکتے نہیں
باغباں سے کر لیا صیّاد نے کچھ ساز باز
اہلِ گُلشن خیر اب اپنی منا سکتے نہیں
ہم شکوہ ہائے چرخ ستمگار کیا کریں
فطرت ہو جس کی کج اسے ہموار کیا کریں
دل میں خیالِ عارضِ جاناں ہے جاگزیں
پھر ہم تصورِ گل و گلزار کیا کریں
دیتے ہیں جان جب وہ رقیبوں پہ رات دن
ہم جان دیں نہ اپنی تو ناچار کیا کریں
خدا کرے کہ کسی کو کسی سے پیار نہ ہو
مِری طرح کوئی دنیا میں بے قرار نہ ہو
دلِ حزیں! نہ تڑپ، آنکھ اشکبار نہ ہو
ہمارا درد زمانے میں آشکار نہ ہو
اُسے دیوانہ بھلا کس طرح کہا جائے
جنوں کی راہ میں دامن جو تار تار نہ ہو