Saturday, 13 November 2021

خدا کرے کہ کسی کو کسی سے پیار نہ ہو

 خدا کرے کہ کسی کو کسی سے پیار نہ ہو

مِری طرح کوئی دنیا میں بے قرار نہ ہو

دلِ حزیں! نہ تڑپ، آنکھ اشکبار نہ ہو

ہمارا درد زمانے میں آشکار نہ ہو

اُسے دیوانہ بھلا کس طرح کہا جائے

جنوں کی راہ میں دامن جو تار تار نہ ہو

ہزار ضبط کی کوشش بھی رائیگاں جائے

وہ سامنے ہو مگر دل پہ اختیار نہ ہو

تمہارے دم سے نئی زندگی ملی ہم کو

بتاؤ کیسے شب و روز خوشگوار نہ ہو

اُسے چمن نہیں ویرانہ کہیں گے بسمل

کہ جس چمن میں کبھی آمدِ بہار نہ ہو


بسمل گیاوی

No comments:

Post a Comment