Saturday, 13 November 2021

کسی دراز میں رکھنا کہ طاق پر رکھنا

 کسی دراز میں رکھنا کہ طاق پر رکھنا

مِرے خطوطِ محبت سنبھال کر رکھنا

کسی بھی دور میں شاید میں تیرے کام آؤں

جدا ہو شوق سے، کچھ رابطہ مگر رکھنا

گھٹائیں یاس کی چھائینگی چھٹ بھی جائینگی

ہجومِ درد میں قابو حواس پر رکھنا

خدا کرے کہ ملے تجھ کو منزلِ مقصود

فراز پا کے نشیبوں پہ بھی نظر رکھنا

انا کو بیچ کے جینا بھی کوئی جینا ہے

بلا سے جان جو جاتی ہے جائے سر رکھنا

کبھی ہو گھر میں جو میرا بھی انتظار تجھے

اندھیری رات میں ہرگز کُھلا نہ در رکھنا

خدا کے ہاتھ ہے موت و حیات اے راسخ

ہوس کے در پہ محبت کو معتبر رکھنا


راسخ عرفانی

No comments:

Post a Comment