جب تجھے گنگنانے لگتی ہے
شاعری تب ٹھکانے لگتی ہے
زندگی پر یقین کیسے ہو
یہ بہانے بنانے لگتی ہے
آگہی اک ذرا نہیں بھاتی
یہ مِرے ہوش اُڑانے لگتی ہے
سوچ کر اُس کو مسکراتا ہوں
یاد بھی گدگدانے لگتی ہے
ڈھونڈتی ہے بہانہ بادِ صبا
تیری باتیں سنانے لگتی ہے
خرم شاہ
No comments:
Post a Comment