Saturday, 13 November 2021

جب تجھے گنگنانے لگتی ہے

 جب تجھے گنگنانے لگتی ہے

شاعری تب ٹھکانے لگتی ہے

زندگی پر یقین کیسے ہو

یہ بہانے بنانے لگتی ہے

آگہی اک ذرا نہیں بھاتی

یہ مِرے ہوش اُڑانے لگتی ہے

سوچ کر اُس کو مسکراتا ہوں

یاد بھی گدگدانے لگتی ہے

ڈھونڈتی ہے بہانہ بادِ صبا

تیری باتیں سنانے لگتی ہے


خرم شاہ

No comments:

Post a Comment