میرا محبوب یہ احساس دلاتا ہے مجھے
عشق کا طور طریقہ نہیں آتا ہے مجھے
ڈھل چکی رات مگر نیند نہیں آنکھوں میں
کس کی یادوں کا یہ آسیب جگاتا ہے مجھے
ناز اٹھانا بھی تو آدابِ محبت ہے، مگر
روٹھ جانے پہ کہاں کوئی مناتا ہے مجھے
آئینہ⌗ اور بھی حیران کیا کرتا ہے
اس میں محبوب کا چہرہ نظر آتا ہے مجھے
اپنا جلوہ وہ حقیقت میں دکھائے تو کبھی
کیوں تصور میں ہی دیدار کراتا ہے مجھے
وہ مِرا چاہنے والا ہے، مگر اے عرشی
رات بھر میر کے اشعار سناتا ہے مجھے
عروسہ عرشی
No comments:
Post a Comment