Saturday, 13 November 2021

میرا محبوب یہ احساس دلاتا ہے مجھے

 میرا محبوب یہ احساس دلاتا ہے مجھے

عشق کا طور طریقہ نہیں آتا ہے مجھے

ڈھل چکی رات مگر نیند نہیں آنکھوں میں

کس کی یادوں کا یہ آسیب جگاتا ہے مجھے

ناز اٹھانا بھی تو آدابِ محبت ہے، مگر

روٹھ جانے پہ کہاں کوئی مناتا ہے مجھے

آئینہ⌗ اور بھی حیران کیا کرتا ہے

اس میں محبوب کا چہرہ نظر آتا ہے مجھے

اپنا جلوہ وہ حقیقت میں دکھائے تو کبھی

کیوں تصور میں ہی دیدار کراتا ہے مجھے

وہ مِرا چاہنے والا ہے، مگر اے عرشی

رات بھر میر کے اشعار سناتا ہے مجھے


عروسہ عرشی

No comments:

Post a Comment