عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں
اور ہر روز مدینے کی ہوا کھاتا ہوں
کتنی ٹھنڈک ہے مدینے کی فضاؤں میں تو
روح اپنی ہے جو سرشار اسے پاتا ہوں
اور محمدﷺ کی یہ سیرت کا اجالا ہے جو
میں مدینے میں اسے ہر جگہ ہی پاتا ہوں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں
اور ہر روز مدینے کی ہوا کھاتا ہوں
کتنی ٹھنڈک ہے مدینے کی فضاؤں میں تو
روح اپنی ہے جو سرشار اسے پاتا ہوں
اور محمدﷺ کی یہ سیرت کا اجالا ہے جو
میں مدینے میں اسے ہر جگہ ہی پاتا ہوں
مجھے یقیں ہے کہ اوجِ گماں پہ رکھتی ہے
عجیب لڑکی ہے مجھ کو کہاں پہ رکھتی ہے
میں جانتا ہوں محبت بھی اس کو ہے مجھ سے
مگر ستم بھی روا میری جاں پہ رکھتی ہے
میں موم ہوں مجھے کافی ہے دھوپ میں رکھنا
پہ زندگی مجھے نوکِ سناں پہ رکھتی ہے
دُکھ زخمی سپنوں کا دل کے اندر بولے گا
جب منظر چُپ سادھے گا پس منظر بولے گا
تیرے ہجر کا دامن تھامے آخرِ شب کا چاند
اوجِ فلک کے دروازے سے لگ کر بولے گا
تیسری آنکھ کا دور ہے سائیں مت انجان بنو
پھینکنے والا آخر کون تھا؟ پتھر بولے گا
مشکل ہے ناں، مشکل میں آسانی ڈھونڈ رہا ہوں
صحرا صحرا گھوم رہا ہوں، پانی ڈھونڈ رہا ہوں
جلتی ریت پہ ننگے پیروں میں پہروں چل پھر کے
پیاسی آنکھوں کی خاطر ارزانی ڈھونڈ رہا ہوں
ہونے کو تو ہو سکتا ہے قیس میاں بھی دیوانہ
میں فی الحال اس دشت میں اپنا ثانی ڈھونڈ رہا ہوں
زندگانی میں ہے خوشی تم سے
زندگی زندگی بنی تم سے
ہاڑ کی دھوپ نے جلایا ہمیں
آس ہم کو تھی چھاؤں کی تم سے
کیا تمہیں مجھ پہ اعتبارنہیں
میں کروں اور دل لگی تم سے
جب تک درِ ایوان جلایا نہیں جاتا
تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا
ان اہلِ سیاست کی یہ سفاک روِش ہے
عالم کو بھی قاتل سے بچاتا نہیں جاتا
ظالم کے ستم سے ہو اگر خلقِ خدا تنگ
دنیا!! اسے کیا مار گِرایا نہیں جاتا
کبھی دھیرے کبھی عجلت سے کیا جاتا ہے
کام ہجرت کا سہولت سے کیا جاتا ہے
یہ ودیعت ہوا جذبہ ہے عطا ہے رب کی
عشق بھی کوئی ضرورت سے کیا جاتا ہے
اتنا خود سر نہ ہوا کر مرے مرجان صفت
کچھ کنارہ بھی عداوت سے کیا جاتا ہے