Showing posts with label عزیز عادل. Show all posts
Showing posts with label عزیز عادل. Show all posts

Saturday, 17 September 2022

میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں تصور میں مدینے کی طرف جاتا ہوں

اور ہر روز مدینے کی ہوا کھاتا ہوں

کتنی ٹھنڈک ہے مدینے کی فضاؤں میں تو

روح اپنی ہے جو سرشار اسے پاتا ہوں

اور محمدﷺ کی یہ سیرت کا اجالا ہے جو

میں مدینے میں اسے ہر جگہ ہی پاتا ہوں

Saturday, 18 September 2021

مجھے یقیں ہے کہ اوج گماں پہ رکھتی ہے

 مجھے یقیں ہے کہ اوجِ گماں پہ رکھتی ہے

عجیب لڑکی ہے مجھ کو کہاں پہ رکھتی ہے

میں جانتا ہوں محبت بھی اس کو ہے مجھ سے

مگر ستم بھی روا میری جاں پہ رکھتی ہے

میں موم ہوں مجھے کافی ہے دھوپ میں رکھنا

پہ زندگی مجھے نوکِ سناں پہ رکھتی ہے

Saturday, 7 August 2021

دکھ زخمی سپنوں کا دل کے اندر بولے گا

 دُکھ زخمی سپنوں کا دل کے اندر بولے گا

جب منظر چُپ سادھے گا پس منظر بولے گا

تیرے ہجر کا دامن تھامے آخرِ شب کا چاند

اوجِ فلک کے دروازے سے لگ کر بولے گا

تیسری آنکھ کا دور ہے سائیں مت انجان بنو

پھینکنے والا آخر کون تھا؟ پتھر بولے گا

Wednesday, 4 August 2021

مشکل ہے ناں مشکل میں آسانی ڈھونڈ رہا ہوں

 مشکل ہے ناں، مشکل میں آسانی ڈھونڈ رہا ہوں

صحرا صحرا گھوم رہا ہوں، پانی ڈھونڈ رہا ہوں

جلتی ریت پہ ننگے پیروں میں پہروں چل پھر کے

پیاسی آنکھوں کی خاطر ارزانی ڈھونڈ رہا ہوں

ہونے کو تو ہو سکتا ہے قیس میاں بھی دیوانہ

میں فی الحال اس دشت میں اپنا ثانی ڈھونڈ رہا ہوں

Monday, 3 May 2021

زندگانی میں ہے خوشی تم سے

 زندگانی میں ہے خوشی تم سے

زندگی زندگی بنی تم سے

ہاڑ کی دھوپ نے جلایا ہمیں

آس ہم کو تھی چھاؤں کی تم سے

کیا تمہیں مجھ پہ اعتبارنہیں

میں کروں اور دل لگی تم سے

Saturday, 20 March 2021

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا

 جب تک درِ ایوان جلایا نہیں جاتا

تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا

ان اہلِ سیاست کی یہ سفاک روِش ہے

عالم کو بھی قاتل سے بچاتا نہیں جاتا

ظالم کے ستم سے ہو اگر خلقِ خدا تنگ

دنیا!! اسے کیا مار گِرایا نہیں جاتا

Wednesday, 16 December 2020

کبھی دھیرے کبھی عجلت سے کیا جاتا ہے

 کبھی دھیرے کبھی عجلت سے کیا جاتا ہے

کام ہجرت کا سہولت سے کیا جاتا ہے

یہ ودیعت ہوا جذبہ ہے عطا ہے رب کی

عشق بھی کوئی ضرورت سے کیا جاتا ہے

اتنا خود سر نہ ہوا کر مرے مرجان صفت

کچھ کنارہ بھی عداوت سے کیا جاتا ہے