مجھے یقیں ہے کہ اوجِ گماں پہ رکھتی ہے
عجیب لڑکی ہے مجھ کو کہاں پہ رکھتی ہے
میں جانتا ہوں محبت بھی اس کو ہے مجھ سے
مگر ستم بھی روا میری جاں پہ رکھتی ہے
میں موم ہوں مجھے کافی ہے دھوپ میں رکھنا
پہ زندگی مجھے نوکِ سناں پہ رکھتی ہے
سفر کی سمت کا ادراک ہی نہیں رہتا
ہوا جو ہاتھ کبھی بادباں پہ رکھتی ہے
تماشا دیکھیۓ مجھ کو جنوں کی تیز ہوا
اڑا کے لے تو چلی ہے کہاں پہ رکھتی ہے
وہ جن کے بخت کا تارا چمک رہا ہے انھیں
زمیں سجاتی ہے اور آسماں پہ رکھتی ہے
ستارے گھورتی ہے اور کبھی کبھی عادل
دِیا جلاتی ہے اور آستاں پہ رکھتی ہے
عزیز عادل
No comments:
Post a Comment