طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیۓ
پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیۓ
پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤ گے
تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیۓ
چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے
لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیۓ
ایسے کتنے ہی ملیں گے تمہیں منزل تک سو
دیکھنا چھوڑیۓ بھی میل کے پتھر چلیۓ
راہ میں بھیڑ ڈراتی ہے تو گھر جاتے ہیں اور
گھر کی تنہائی یہ کہتی ہے کہ باہر چلیۓ
چراغ بریلوی
No comments:
Post a Comment