Saturday, 18 September 2021

پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیے

 طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیۓ

پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیۓ

پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤ گے

تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیۓ

چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے

لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیۓ

ایسے کتنے ہی ملیں گے تمہیں منزل تک سو

دیکھنا چھوڑیۓ بھی میل کے پتھر چلیۓ

راہ میں بھیڑ ڈراتی ہے تو گھر جاتے ہیں اور

گھر کی تنہائی یہ کہتی ہے کہ باہر چلیۓ


چراغ بریلوی

No comments:

Post a Comment