سخنوری میں سخنور بھی مجھ سے ایسے جلے
کہ جس طرح کوئی میکش پرانی مے سے جلے
کسی کے ساتھ جو دیکھا اسے، بھر آئی آنکھ
نمی تھی پھر بھی بہرحال جیسے تیسے جلے
ہر ایک چیز کا اپنا علاقہ ہوتا ہے
اب اتنی روشنی میں یہ چراغ کیسے جلے
بہار راگ میں تیرا خیال گاتا رہا
کئی تو سُر سے جلے، چند میری لَے سے جلے
الگ حساب ہے اپنا کہ رتجگوں سے یہ آنکھ
مزید روشنی دیتی ہے جیسے جیسے جلے
عدو کو توڑ رہا ہے مِرا تساہل بھی
کہ حد ہے بندہ کسی جلنے والی شے سے جلے
ہماری سوچ کا ہی زاویہ غلط نکلا
نہیں سے اتنے نہیں لوگ جتنے ہے سے جلے
حارث جمیل
No comments:
Post a Comment