Saturday, 18 September 2021

تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے

 تیرا آنچل نہیں ہوتا ہے

ابر بادل نہیں ہوتا ہے

بارشیں تو بہت ہوتی ہیں

دشت جل تھل نہیں ہوتا ہے

مستقل ہے یہ کیسی کمی

کچھ مکمل نہیں ہوتا ہے

صرف اس کے شجر ہوتے ہیں

صبر کا پھل نہیں ہوتا ہے

ایک جنگل نظر آنے سے

شہر جنگل نہیں ہوتا ہے

اس کو تفصیل سے پڑھتا ہوں

جو مفصل نہیں ہوتا ہے

بات کرتے ہیں صدیوں کی ہم

پاس اک پل نہیں ہوتا ہے


سحرتاب رومانی

No comments:

Post a Comment