Showing posts with label طارق عزیز. Show all posts
Showing posts with label طارق عزیز. Show all posts

Monday, 30 August 2021

تعبیروں کے درد اٹھا کر کیا کرنا ہے

 تعبیروں کے درد اٹھا کر کیا کرنا ہے

کیا کرنا ہے خواب سجا کر کیا کرنا ہے

اس کی صورت اس کی باتیں بھول گئے ہیں

پھر سوچا، خود دھوکا کھا کر کیا کرنا ہے

آپ نے جب لفظوں کے معنی بدل دئیے ہیں

آپ کو اپنا دوست بنا کر کیا کرنا ہے

Monday, 28 June 2021

آدمی خواب ہے تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

 آدمی خواب ہے


آدمی خواب ہے

تجھ سے مِل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

یہ بدن خواب ہے

اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے

تیرا دھن خواب ہے

Monday, 15 March 2021

اب جو تم لوٹ کر آؤ بھی تو کیا رکھا ہے

 اب جو تم لوٹ کر آؤ بھی تو کیا رکھا ہے

دل کے سب شہر جلے، آنکھ کے دریا سوکھے

کوئی جَل تھل نہ رہا خون کی شریانوں میں

ایک ہی سال میں یہ جِسم کی دیوار گِری

پُھول شاخوں پہ کھڑے تھے کے اچانک ٹوٹے

اور ہم سوچا کیے تم بھی ہو کتنے جھوٹے

Sunday, 14 March 2021

پہلے اک بوجھ تھا کیوں خواب نہیں دکھتے ہیں

 پہلے اِک بوجھ تھا کیوں خواب نہیں دِکھتے ہیں

اور جب خواب نظر آیا تو یہ فکر ہوئی

اس کی تعبیر خدا جانے کہ کیسی ہو گی

اور تعبیر نظر آئی تو دل کانپ گیا

آنکھ گھبرائی کہ تعبیر یہ کیسی پائی

اب اگر سوئے تو پھر خواب دکھائی دے گا

Saturday, 13 March 2021

تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

 تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

یہ بدن خواب ہے

اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے

تیرا دھن خواب ہے

تیری ہستی گماں

ہر گماں خواب ہے

Friday, 12 March 2021

کبھی تم کتابوں میں کچلی ہوئی تتلی جو دیکھو

 کبھی تم کتابوں میں کُچلی ہوئی تتلی جو دیکھو

تو یہ جان لینا

مجھے آسماں اور زمیں نے کچل کر تمہاری کتابوں میں

تتلی کی صورت بقا بخش دی ہے

کبھی پھول ٹوٹا ہوا کوئی پاؤ

تو یہ جان لینا

Monday, 14 December 2020

زمیں زادے زمیں پر بسنے والے تھکنے والے ہیں

زمیں زادے! چلو باتیں کریں شہرِ تمنا کی

یہاں تو شام سے پہلے ہی سورج ڈوب جاتا ہے

یہاں ہر خواب سے پہلے ہی نیندیں چونک اٹھتی ہیں

بہاریں یوں گزرتی ہیں کہ جیسے وقت سے ان کی کوئی ازلی عداوت ہو

کوئی بادل نہیں رکتا، ہوائیں بے مروّت ہیں

ہوئی صدیاں کے آنکھوں میں کوئی سورج نہیں چمکا