تعبیروں کے درد اٹھا کر کیا کرنا ہے
کیا کرنا ہے خواب سجا کر کیا کرنا ہے
اس کی صورت اس کی باتیں بھول گئے ہیں
پھر سوچا، خود دھوکا کھا کر کیا کرنا ہے
آپ نے جب لفظوں کے معنی بدل دئیے ہیں
آپ کو اپنا دوست بنا کر کیا کرنا ہے
تعبیروں کے درد اٹھا کر کیا کرنا ہے
کیا کرنا ہے خواب سجا کر کیا کرنا ہے
اس کی صورت اس کی باتیں بھول گئے ہیں
پھر سوچا، خود دھوکا کھا کر کیا کرنا ہے
آپ نے جب لفظوں کے معنی بدل دئیے ہیں
آپ کو اپنا دوست بنا کر کیا کرنا ہے
آدمی خواب ہے
آدمی خواب ہے
تجھ سے مِل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں
یہ بدن خواب ہے
اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے
تیرا دھن خواب ہے
اب جو تم لوٹ کر آؤ بھی تو کیا رکھا ہے
دل کے سب شہر جلے، آنکھ کے دریا سوکھے
کوئی جَل تھل نہ رہا خون کی شریانوں میں
ایک ہی سال میں یہ جِسم کی دیوار گِری
پُھول شاخوں پہ کھڑے تھے کے اچانک ٹوٹے
اور ہم سوچا کیے تم بھی ہو کتنے جھوٹے
پہلے اِک بوجھ تھا کیوں خواب نہیں دِکھتے ہیں
اور جب خواب نظر آیا تو یہ فکر ہوئی
اس کی تعبیر خدا جانے کہ کیسی ہو گی
اور تعبیر نظر آئی تو دل کانپ گیا
آنکھ گھبرائی کہ تعبیر یہ کیسی پائی
اب اگر سوئے تو پھر خواب دکھائی دے گا
تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں
یہ بدن خواب ہے
اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے
تیرا دھن خواب ہے
تیری ہستی گماں
ہر گماں خواب ہے
کبھی تم کتابوں میں کُچلی ہوئی تتلی جو دیکھو
تو یہ جان لینا
مجھے آسماں اور زمیں نے کچل کر تمہاری کتابوں میں
تتلی کی صورت بقا بخش دی ہے
کبھی پھول ٹوٹا ہوا کوئی پاؤ
تو یہ جان لینا
زمیں زادے! چلو باتیں کریں شہرِ تمنا کی
یہاں تو شام سے پہلے ہی سورج ڈوب جاتا ہے
یہاں ہر خواب سے پہلے ہی نیندیں چونک اٹھتی ہیں
بہاریں یوں گزرتی ہیں کہ جیسے وقت سے ان کی کوئی ازلی عداوت ہو
کوئی بادل نہیں رکتا، ہوائیں بے مروّت ہیں
ہوئی صدیاں کے آنکھوں میں کوئی سورج نہیں چمکا